وینزویلا کا امریکی بحری موجودگی کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی ردعمل

کراکس میں واشنگٹن کی کارروائیوں پر تشویش”یہ منشیات نہیں، طاقت کا کھیل ہے”مادورو حکومت کا مؤقف

کراکس (اے ایف پی/رائٹرز)وینزویلا نے امریکی بحری موجودگی کے خلاف اپنے ساحل کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ اقدام “ملک کی خودمختاری کے تحفظ”کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ امریکا کریبیئن اور مشرقی پیسفک میں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آپریشن کے نام پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک بین الاقوامی پانیوں میں 20 سے زائد جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 76 افراد ہلاک ہوئے، تاہم کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ یہ جہاز منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔وینزویلا کی وزارت دفاع کے مطابق”ہم زمینی، بحری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ سول ملیشیا کو بھی متحرک کر رہے ہیں تاکہ اپنی سمندری حدود اور خودمختاری کا دفاع کیا جا سکے۔”

ریاستی ٹی وی پر فوجی کمانڈروں کی تقاریر براہِ راست نشر کی گئیں جن میں امریکی دباؤ کو “جارحیت کی نئی شکل” قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ اعلانات فوری فوجی تصادم میں تبدیل نہیں ہوئے، لیکن کراکس میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ امریکا صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی تیاری کر رہا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ “مادورو کے دن گنے جا چکے ہیں”، تاہم انہوں نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو “کمزور” قرار دیا۔

امریکا نے منگل کو دنیا کے سب سے بڑے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کو لاطینی امریکا کے خطے میں بھیج دیا۔ یو ایس نیول فورسز کے مطابق یہ اقدام “منشیات کے خلاف جنگ” کے آپریشن کا حصہ ہے، تاہم وینزویلا نے خبردار کیا ہے کہ”اگر امریکی فورسز نے ہماری سمندری حدود کے قریب پیش قدمی کی، تو اسے مکمل فوجی جارحیت سمجھا جائے گا۔”

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق وینزویلا کی فوجی نقل و حرکت بظاہر داخلی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے، جب کہ واشنگٹن کی جانب سے بحری تعیناتی “دباؤ کی نئی حکمتِ عملی” سمجھی جا رہی ہے۔ لاطینی امریکا میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں خطے میں ایک نئے سرد جنگی منظرنامے کو جنم دے سکتی ہیں، جس کے اثرات تیل کی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر پڑنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں