کاراکاس(غیرملکی میڈیا) وینزویلا کی نوبیل امن انعام یافتہ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ماریا کورینا ماچاڈو نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد وینزویلا واپس آئیں گی اور عوام کی قیادت کرینگی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عبوری حکومت تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی علامت بن چکی ہے اور عوام اسے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
ماچاڈو نے دعویٰ کیا کہ آزاد اور شفاف انتخابات کی صورت میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرے گی اور اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے مجرمانہ نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں گی اور ان لاکھوں شہریوں کو واپس لائیں گی جو سیاسی اور معاشی بحران کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
ماریا کورینا ماچاڈو نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، آخری گفتگو نوبیل امن انعام کے اعلان کے روز ہوئی تھی۔ انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز سمیت مادورو کے قریبی وفادار رہنما ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن کے بجائے عبوری حکومت سے رابطے کو ترجیح دی۔
وائٹ ہاؤس نے خفیہ رپورٹ کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر عالمی سیاسی صورتحال پر مسلسل بریفنگ لیتے ہیں اور فیصلے امریکا کے مفادات اور وینزویلا کے عوام کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

