ٹرمپ نے چارلی کرک کو ’شہید‘ قرار دے کر اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازدیا

واشنگٹن (اے ایف پی) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قتل شدہ اتحادی چارلی کرک کو ’سچ اور آزادی کا شہید‘ قرار دیتے ہوئے انہیں بعد از مرگ امریکا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز، “تمغہ آزادی” عطا کیا۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں صدر ٹرمپ نے کرک کی بیوہ کو یہ تمغہ پیش کیا اور 31 سالہ قدامت پسند کارکن کا موازنہ سقراط، سینٹ پیٹر، ابراہم لنکن اور مارٹن لوتھر کنگ سے کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ چارلی کرک کے قتل کے بعد شروع کی گئی مہم کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ ’انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں‘ کے خلاف کارروائی کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’چارلی کے قتل کے بعد ہمارے ملک میں ایسے انتہا پسند بائیں بازو کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت کیلئے کوئی برداشت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم اپنے شہروں کو غیر محفوظ نہیں رہنے دیں گے۔‘

“سوشل میڈیا پر کرک کی موت کے جشن پر ویزے منسوخ”
امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو بتایا کہ کم از کم 6 غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر کرک کی موت کا جشن منایا۔ ان میں ارجنٹینا، جنوبی افریقہ، میکسیکو، برازیل اور پیراگوئے کے شہری شامل تھے، جنہوں نے کرک کو ’نسل پرست‘ یا ’غیر ملکی مخالف‘ جیسے القابات سے پکارا۔

محکمہ خارجہ کے مطابق ایک جرمن شہری کا ویزا بھی اس جملے پر منسوخ کیا گیا کہ ’جب فسطائی مرتے ہیں تو جمہوریت پسند شکایت نہیں کرتے۔‘

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی سیاسی وجوہات کی بنا پر ویزے منسوخ کرنے پر تنقید کا سامنا کر چکی ہے، جن میں امریکی جامعات میں غزہ مظاہروں میں شریک افراد بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں