اوٹاوا(نمائندہ خصوصی+سی بی سی نیوز) کینیڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی ٹیرف کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کیلئے دی گئی کینیڈا کی قربانیاں کسی صورت فراموش نہیں کی جاسکتیں، جبکہ انہوں نے عوام سے کینیڈین مصنوعات خریدنے اور مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کی اپیل بھی کی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد کینیڈا نے امریکی دفاع کے لیے 40 ہزار فوجی افغانستان کی فرنٹ لائن پر تعینات کیے، اس جنگ میں 158 کینیڈین فوجیوں نے جانیں قربان کیں جبکہ کئی زخمی ہوئے، اس دوران 30 کینیڈین اہلکاروں کو امریکی برونز اسٹار سے بھی نوازا گیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ قربانیاں آزادی، انسانی حقوق اور مشترکہ اقدار کے تحفظ کے لیے دی گئیں۔
ہفتے کے روز کینیڈین نشریاتی ادارے سی بی سی کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جب معیشت کو بیرونی خطرات لاحق ہوں تو قوم کو ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے جن پر اس کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ دوسرے ممالک کیا کرتے ہیں، لیکن کینیڈین عوام خود اپنے بہترین خریدار بن سکتے ہیں، ہم کینیڈین مصنوعات خریدینگے اور کینیڈا کی تعمیر کرینگے.
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کینیڈین اشیا امریکا میں داخل ہوئیں تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھ کینیڈا کے ممکنہ تجارتی تعلقات پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک سال کے اندر کینیڈا کو معاشی طور پر کچل دے گا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ کینیڈا گرین لینڈ میں مجوزہ میزائل دفاعی نظام ’’گولڈن ڈوم‘‘ کی تعمیر کی مخالفت کر رہا ہے حالانکہ یہی نظام اس کے تحفظ کا ضامن بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق کینیڈا نے اس کے بجائے چین کیساتھ تجارتی تعلقات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے نام ایک پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ایک مجوزہ عالمی کونسل میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی گئی ہے، تاہم اس کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔ مبصرین کے مطابق یہ ردعمل مارک کارنی کے ان بیانات کا نتیجہ ہو سکتا ہے جن میں انہوں نے درمیانے اور چھوٹے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ پالیسی اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف متحد ہوں۔
یاد رہے کہ عالمی اقتصادی فورم ڈیووس سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا تھا کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کی سخت پالیسیوں کے باعث قواعد پر مبنی عالمی نظام عملاً ختم ہو چکا ہے، جس کے بعد کینیڈا نے اپنی تجارتی حکمت عملی میں تنوع پیدا کرتے ہوئے امریکا پر انحصار کم کرنے اور نئے عالمی شراکت دار تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

