ٹرمپ کی روسی تیل پر ثانوی محصولات کی دھمکی

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر نے کہا کہ اگر ماسکو یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی ان کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ روسی تیل پر 25 سے 50 فیصد تک ثانوی محصولات عائد کریں گے، اور اگر جنگ بندی نہیں ہوتی ہے تو یہ اقدام ایک ماہ کے اندر شروع ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نےبتایا کہ جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قیادت کی ساکھ پر تنقید کی تو وہ ’غصے میں‘ آگئے تھے۔انہوں نےیہ بھی کہا کہ وہ اس ہفتے پوتن سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اپنی 2024 کی صدارتی مہم کے دوران، ٹرمپ نے یوکرین میں اس جنگ کو ختم کرنے کا بار بار عہد کیا تھا جسے وہ ’ مضحکہ خیز ’ کہتے ہیں، اور انہوں نے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اس مسئلے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ ٹرمپ نے خود یوکرین میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے اور زیلنسکی کو جھوٹا آمر قرار دیا ہے۔

پوتن نے تجویز دی کہ یوکرین کو عارضی انتظامیہ کی ایک شکل کے تحت رکھا جا سکتا ہے تاکہ نئے انتخابات اور اہم معاہدوں پر دستخط کیے جا سکیں، جو مؤثر طریقے سے زیلنسکی کو اقتدار سے باہر کرسکیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر روس اور میں یوکرین میں خونریزی روکنے کیلئے کوئی معاہدہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اور اگر مجھے لگا کہ یہ روس کی غلطی ہے تو میں روس سے آنے والے تمام تیل پر ثانوی محصولات عائد کردوں گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں