واشنگٹن +اوٹاوا(ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کو ایک باضابطہ خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ اگر کوئی تجارتی معاہدہ نہ ہو سکا تو یکم اگست سے کینیڈا کی برآمدات پر 35 فیصد نیا درآمدی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ انتباہ اس ہفتے کے دوران مختلف ممالک کو بھیجے گئے 20 سے زائد خطوط کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں انہوں نے تجارتی جنگ کے آغاز کی دھمکیاں دی ہیں۔
ٹرمپ کے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان جاری یو ایس ایم سی اے تجارتی معاہدے کے حوالے سے 21 جولائی تک کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو امریکا یکم اگست سے کینیڈین مصنوعات پر 35 فیصد ٹیرف نافذ کر دے گا۔
ٹرمپ کی اس دھمکی سے کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جو ماضی میں بھی کئی بار کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے جمعرات کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا”ہم نے ہمیشہ کینیڈین ورکرز اور بزنسز کا دفاع کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ ہم یکم اگست کی نئی ڈیڈ لائن کے تحت بات چیت جاری رکھیں گے۔”
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز سے ہی تجارتی معاہدوں پر نظرثانی اور نئے ٹیرف کے نفاذ کی دھمکیاں دینا شروع کی تھیں۔ یو ایس ایم سی اے معاہدہ، جو 2020 میں نافتا کی جگہ متعارف ہوا تھا، 2026 میں دوبارہ تجدید کے مرحلے سے گزرنے والا ہے، مگر ٹرمپ کی پالیسیوں نے اس پر عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ابتدائی طور پر امریکا نے کینیڈا اور میکسیکو کی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے، تاہم توانائی کے شعبے کو استثنیٰ دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی، خاص طور پر گزشتہ ماہ جی-7 اجلاس کے دوران، جہاں عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کو تجارتی تناؤ کم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کے دیگر شراکت دار ممالک بھی ان کی شرائط پر راضی نہ ہوئے تو وہ برازیل جیسے ممالک پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
برازیلی صدر لولا ڈی سلوا نے امریکا سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ممکنہ جوابی اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔ٹرمپ نے اپنے خط میں برازیل کی سابق حکومت کے دائیں بازو رہنما جیئر بولسونارو کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر بھی تنقید کی۔

