باماکو/اوگاڈوگو(ایجنسیاں)مغربی افریقہ کے ممالک مالی اور برکینا فاسو نے امریکی شہریوں کے سفر پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک کو سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ نے جاری الگ الگ بیانات میں کہا کہ امریکی شہریوں پر سفری پابندی ’’باہمی ردِعمل‘‘ کے اصول کے تحت عائد کی جا رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بیانات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے یکطرفہ فیصلوں کا اسی سطح پر جواب دینا ریاستی خودمختاری کا تقاضا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے 16 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ مالی، برکینا فاسو اور پانچ دیگر ممالک کو مکمل سفری پابندی کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں، جس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق ان ممالک میں اسکریننگ، جانچ پڑتال اور معلومات کے تبادلے کے نظام میں سنگین اور مسلسل خامیاں پائی جاتی ہیں، جو امریکی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کیلئےخطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
مالی حکومت نے امریکی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے قبل کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی اور امریکی مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ برکینا فاسو کی جانب سے بھی امریکی پابندی کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خطے کے دیگر ممالک نے امریکی سفری پابندیوں کے جواب میں اسی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔ 25 دسمبر کو نائیجر نے امریکی شہریوں کو ویزے جاری کرنے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ جون میں چاڈ نے بھی امریکا کی جانب سے سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکی شہریوں کیلئےویزا معطل کر دیا تھا۔

