ٹرن بیری، اسکاٹ لینڈ :ٹرمپ کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا جانے کا اعلان

ٹرن بیری، اسکاٹ لینڈ ( نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لاین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر اتفاق کی تصدیق کر دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات پر بنیادی 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ کچھ اہم مصنوعات پر رعایت دی جائے گی۔ معاہدے کے بعد امریکی محصولات سے بچنے کی یورپی کوششوں کو وقتی کامیابی مل گئی ہے، تاہم معاہدہ رکن ممالک کی منظوری سے مشروط ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسکاٹ لینڈ کے شہر ٹرن بیری میں واقع اپنے گالف ریزورٹ پر یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لاین سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ “ہم ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں، اور یہ سب کے لیے اچھا معاہدہ ہے۔” وان ڈیر لاین نے بھی اسے “ایک اچھا معاہدہ” قرار دیا۔

اس ملاقات سے قبل ٹرمپ نے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے امکانات کو 50-50 قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یکم اگست سے یورپی مصنوعات پر 30 فیصد امریکی ٹیکس لاگو ہوگا۔ واشنگٹن نے واضح کیا تھا کہ اس ڈیڈ لائن میں کوئی توسیع نہیں دی جائے گی۔

یورپی کمیشن، جو 1.9 ٹریلین ڈالر کی سالانہ اشیاء و خدمات کی تجارت کی نمائندگی کرتا ہے، نے امریکا سے وسیع تجارتی معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی تھیں تاکہ اپنی معیشت کو ممکنہ امریکی محصولات سے بچایا جا سکے۔

وان ڈیر لاین نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ طے پایا تو یہ “ہم دونوں کے درمیان سب سے بڑا معاہدہ” ہو گا۔ ایک یورپی سفارتکار کے مطابق، معاہدے کا سیاسی خاکہ تیار ہے، تاہم چند اہم نکات پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے، اور ٹرمپ کی منظوری کا انتظار ہے۔

معاہدے کے تحت یورپی برآمدات پر بنیادی طور پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جو جاپان سے کیے گئے معاہدے کے مساوی ہے۔ تاہم ہوائی جہاز اور مشروبات کے شعبے کو کچھ رعایت دی جائے گی، جبکہ شراب اس میں شامل نہیں ہو گی۔

یورپی یونین نے امریکی مائع قدرتی گیس (LNG) کی خریداری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ آئرلینڈ کی اہم برآمد ادویات اور سیمی کنڈکٹرز پر بھی 15 فیصد محصول عائد ہو گا۔ اسٹیل کی ایک خاص مقدار امریکی مارکیٹ میں بغیر ٹیکس داخل کی جا سکے گی۔

یہ معاہدہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی منظوری سے مشروط ہے، جن کے سفیروں کو گرین لینڈ میں کمیشن نے تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ معاہدے کے بعد ان کی دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔

اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو یورپی یونین نے 109 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جو 7 اگست سے مرحلہ وار نافذ ہوں گے۔ برسلز نے امریکی خدمات کی ایک فہرست بھی تیار کر لی ہے جنہیں ٹیکس کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے “90 دن میں 90 معاہدے” کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب تک ان کی انتظامیہ صرف پانچ تجارتی معاہدوں کا اعلان کر سکی ہے، جن میں برطانیہ، جاپان اور فلپائن شامل ہیں۔ گیلپ سروے کے مطابق ان کی مقبولیت 37 فیصد تک گر چکی ہے، جو جنوری کے مقابلے میں 10 پوائنٹس کم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں