ٹروڈو کے بعد کا کینیڈا: اقتدار کی دہلیز پر کانٹوں بھرا سفر

جسٹن ٹروڈو کے بعد، کینیڈا ایک نئے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، لیکن یہ تبدیلی امیدوں کا جشن نہیں، بلکہ بحرانوں کی بھری راہ ہے۔ مارک کارنی کی قیادت میں لبرلز کیلئے یہ سفر اقتدار کی نہیں، امتحان کی علامت ہے۔

حالیہ عوامی جائزے لبرل پارٹی کی مارک کارنی کی قیادت میں واپسی کا عندیہ دے رہے ہیں، اندازے اکثریتی حکومت کی پیش گوئی بھی کر رہے ہیں، جس ملک نے قریب ایک دہائی تک جسٹن ٹروڈو کی دلکش شخصیت کو برداشت کیا، اب ایک نئے چہرے کی تلاش میں ہے۔ مگر اگر واقعی لبرلز اقتدار میں واپس آتے ہیں، تو یہ کوئی جیت کی شاندار منزل نہیں ہوگی، بلکہ یہ ایک ایسی راہ ہوگی جو بحرانوں سے بھرپور ہے، معیشت کی نازک صورتحال، سماجی انتشار، اور بیرونی دنیا کی غیر یقینی صورت حال۔ مارک کارنی، جنہیں عالمی سطح پر مالیاتی ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے، ان کیلئے یہ وزارتِ عظمیٰ کا سفر کسی تاج کی مانند نہیں ہوگا، بلکہ ایک کانٹوں سے بھرا بستر ہوگا، بلند توقعات، شدید امیدیں، اور اگر وہ پوری نہ ہو سکیں تو سنگین مایوسی۔

سن 2025 کا کینیڈا ایک پرسکون یا متوازن ملک نہیں ہے، یہ ایک ایسی ریاست ہے جو بیک وقت کئی بحرانوں سے نبردآزما ہے۔ ہاؤسنگ کا بحران انتہا کو پہنچ چکا ہے، نوجوان خاندان اور درمیانے طبقے کے شہری بڑے شہروں میں گھر لینے کے خواب سے بھی دور ہیں۔ مہنگائی کی شدت، اگرچہ کچھ کم ہوئی ہے، مگر اب بھی روزمرہ ضروریات جیسے کہ خوراک، کرایہ، اور توانائی کی قیمتیں عوام کیلئے بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ صحت کا نظام بدترین دباؤ کا شکار ہے، ایمرجنسی روم بند ہو رہے ہیں، عملہ کم ہے، اور نجکاری کی طرف بڑھتے قدم عوام میں تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ حکومت، میڈیا، اور اداروں پر سے عوامی اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

معاشی حالات بھی کچھ بہتر نہیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر قرضہ بلند سطح پر ہے۔ وفاقی بجٹ مسلسل خسارے میں ہے اور مستقبل میں اس کو متوازن کرنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ لیبر مارکیٹ میں، خاص طور پر ہیلتھ کیئر، ہنر مند شعبوں اور ٹیکنالوجی میں افرادی قوت کی کمی ہے۔ نوجوان طبقہ بیروزگاری یا کم آمدن والی نوکریوں میں پھنس چکا ہے۔ امیگریشن، جو کبھی کینیڈا کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار سمجھا جاتا تھا، اب تنقید کی زد میں ہے کیونکہ ہاؤسنگ اور سہولیات کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ لبرل حکومت نے امیگریشن کے ہدف میں کمی کا عندیہ دیا ہے، لیکن اگر وہ معاشی ضروریات اور سماجی ہم آہنگی کے درمیان توازن قائم نہ کر سکے تو مزید تنقید کا سامنا کریگی۔

مارک کارنی بین الاقوامی سطح پر معتبر شخصیت ہیں، وہ بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ مالیاتی پالیسی میں گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ مگر یہی ان کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری بھی ہے، وہ ایک “روایتی سیاستدان” نہیں ہیں۔ ان کے پاس مقامی سطح پر عوامی روابط، حلقہ انتخاب کی موجودگی، یا تنظیمی سیاست کا وہ تجربہ نہیں ہے جو کسی وزیرِاعظم کیلئےضروری ہوتا ہے۔ ان کی زیادہ تر پہچان پالیسی اداروں، عالمی فورمز اور معاشی مشاورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ عوامی میل جول یا مقامی مسائل کے براہِ راست تجربے پر۔ یہی خلا ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ عوامی جمہوریت میں، خاص طور پر کینیڈا جیسے متنوع اور سیاسی طور پر تھکے ہوئے ملک میں، قابلیت عوامی تعلقات کی جگہ نہیں لے سکتی۔

اگر لبرل پارٹی واقعی قومی اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو انہیں کارنی کو کسی “سیلیبریٹی” کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا ہوگا، جیسا کہ انہوں نے ٹروڈو کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے بجائے، انہیں ایک بردبار، سنجیدہ، اور پالیسی پر مبنی سیاستدان کے طور پر متعارف کروانا ہوگا۔ ٹروڈو کی کشش جذباتی اور بصری تھی، کارنی کی طاقت ان کے خیالات اور عمل میں ہونی چاہیے۔ آج کا کینیڈین ووٹر، جو وعدوں، نعروں، اور تصویری سیاست سے تھک چکا ہے، اب صرف ٹھوس تبدیلی چاہتا ہے۔ کارنی کی تقریریں عوام کو متأثر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان کا اعتماد حاصل کرنے کیلئےہونی چاہئیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم کردار ان کی پارٹی کے اراکین کا ہوگا، چونکہ کارنی کو زمینی سیاست کا زیادہ تجربہ نہیں، اس لئے ان کے ایم پی حضرات پر لازم ہوگا کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اگر لبرل پارٹی دوبارہ اوٹاوا کے ببل میں بند ہو گئی، جیسا کہ وہ ٹروڈو کی دوسری اور تیسری مدت میں ہوئی، تو عوام کا ردعمل بہت سخت ہوگا۔

اور تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ کینیڈین ووٹر، اگرچہ نرم مزاج اور اعتدال پسند ہوتے ہیں، مگر وہ کارکردگی کی بنیاد پر سخت فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ چاہے ڈیفن بیکر ہو یا ملرونی، کرچین ہو یا ہارپر، تمام کی مقبولیت ایک وقت میں آسمان پر تھی، مگر عوام نے جلد ہی انہیں زمین پر لا پھینکا جب وہ توقعات پر پورا نہ اترے۔ خود ٹروڈو کی مقبولیت بھی اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ لبرلز کو یاد رکھنا چاہیے کہ کینیڈین ووٹر کسی کو جتنا جلد اوپر لے جاتا ہے، اتنی ہی تیزی سے نیچے بھی گرا سکتا ہے۔

اس تمام صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے عالمی سیاست، خاص طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی۔ اگر وہ دوبارہ صدر بنتے ہیں تو ان کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی کینیڈا کیلئے کئی محاذ کھول سکتی ہے، لکڑی، آٹوموبائل، توانائی، اور سرحدی تعاون سمیت۔ کینیڈا کی خارجہ پالیسی، ماحولیاتی اہداف، اور تجارتی معاہدے ٹرمپ کی غیر متوقع سیاست سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ کسی بھی کینیڈین حکومت کیلئے، چاہے وہ کتنی ہی پرعزم کیوں نہ ہو، یہ ایک نہایت دشوار دور ہوگا۔

ملک کے اندر بھی کئی سنگین مسائل سر اٹھا رہے ہیں، اوپیوئڈز کی وبا، بڑھتی ہوئی بے گھری، نسلی نفرت پر مبنی جرائم، انڈجینس علاقوں میں زمین اور وسائل کے تنازعات، تعلیمی نظام کی کمزوری، بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، اور سوشل میڈیا پر پھیلتی غلط معلومات۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ آنے والی حکومت کو صرف پالیسیاں بنانے کی نہیں، بلکہ ہر سمت سے دباؤ کو سنبھالنے کی ضرورت ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتدار کسی شاندار جشن کا موقع نہیں ہوگا، بلکہ ایک سخت امتحان ہوگا۔ اگر لبرلز نے کارنی کو محض ایک “امید” کے طور پر پیش کیا، تو وہی مایوسی دوبارہ جنم لے گی جس نے ٹروڈو کو زوال کی طرف دھکیلا۔ مگر اگر وہ کارنی کو ایک سنجیدہ ریاست دان کے طور پر، ایک محنتی، حقیقت پسند اور بصیرت رکھنے والے رہنما کے طور پر پیش کریں، اور اپنی پوری ٹیم کو عوام سے منسلک رکھیں، تو وہ شاید اس طوفان کا سامنا کر سکیں۔ بصورت دیگر، وہی تاریخ دہرائی جائے گی، اقتدار کا جلدی حصول، اور اُس سے بھی جلدی زوال۔

اپنا تبصرہ لکھیں