ٹریفک وارڈنز کی ”چندہ مہم“

صبح دفتر کے لئے گھر سے روانگی اور پھر گھر واپسی کے وقت مختلف چوراہوں پر وارڈنز اور شہریوں کے مقابلے جاری ہیں،ابھی تک کسی کی شکست اور فتح کا اعلان تو نہیں ہوا، لیکن ٹریفک پولیس کو اپنی خدمات کی تعریف کے لئے یہ تو مشتہر کرنا چاہئے کہ اب تک موٹر سائیکل سوار حضرات سے جرمانوں کی صورت میں کتنی رقم ”برآمد“ کرائی جا چکی ہے کہ جس چوراہے سے بھی گذرتے ہیں وہاں وارڈنز بھائی ایک طرف موجود موٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان کے چالان کر رہے ہوتے ہیں اور یہ چالان ان کے کئے جاتے ہیں جو ہیلمٹ کے بغیر سواری چلا رہے ہوتے ہیں،ان میں اکثر نوجوان لڑکے اور معتبر شخص بھی ہوتے ہیں اور بعض کے ساتھ خواتین بھی محوِ سفر ہوتی ہیں یہ حضرات پہلے تو منت سماجت کرتے اور پھر چالان کروا کر جان چھڑاتے ہیں۔ چالان کی ادائیگی بھی مسئلہ ہوتی ہے کہ چالان آن لائن ہوتا ہے تو ادائیگی بھی آن لائن ہوتی، جو حضرات ایسا اکاؤنٹ رکھتے ہیں وہ تو کھڑے کھڑے یہ ”فرض“ ادا کر دیتے ہیں ورنہ ان کو بنک جا کرادائیگی کی رسید لانا ہوتی ہے اُس وقت تک موٹر سائیکل انہی ”مہربان“ وارڈنز کے پاس کھڑی رہتی ہے۔

میں نے جو مقابلے کا عرض کیا تو وہ یہ تھا کہ یہ عوام جو ہیلمٹ کے بغیر سواری کرتے اور پکڑے جاتے ہیں، دو ہزار روپے جرمانہ تو ادا کر دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں،لیکن ایک ہزار یا ڈیڑھ ہزار روپے کا ہیلمٹ نہیں خریدتے،کئی روز سے جاری اس ٹریفک چالان مہم کے باوجود شہری ہیلمٹ کے بغیر بھاگے پھرتے ہیں اور قابو آنے پر جرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اس مہم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مخالفانہ مہم جاری ہے اور دو ہزار روپے جرمانہ کو ظلم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس سوشل میڈیا پر ایسی کوئی مہم دیکھنے کو نہیں ملی جو موٹر سائیکل والوں کو یہ ہدایت کریں کہ وہ دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے سے پہلے ہی ہیلمٹ خرید لیں،لیکن ہم یہ بھی کرتے بلکہ ایسے افراد کی تعداد بھی بہت معقول ہے جو ہیلمٹ ہوتے ہوئے بھی پہنتے نہیں ہیں،بلکہ موٹر سائیکل کی ٹینکی پر رکھ لیتے یا پھر بازو میں لٹکا لیتے اور چالان کرا لیتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے نوجوانوں کا یہ شغل بن گیا ہے کہ وہ ہیلمٹ ہوتے ہوئے اس کے بغیر موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور چوراہا قریب آنے پر سر پر رکھ لیتے اور بخیریت گذر جاتے ہیں۔

مجھے اس مہم پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ موٹر سائیکل والے حضرات سے عرض کروں گا وہ یہ مقابلہ بازی ترک کریں اور ہیلمٹ خرید لیں اور ہیں تو ان کو سر پر بھی چڑھا لیا کریں یہ موٹر سائیکل سوار کی حفاظت کے لئے ہے۔ ٹریفک پولیس نے یہ کام مصروف سڑکوں پر شروع کر رکھا اور اکثر مقام پر ناکہ لگایا جاتا ہے اس سے اس مقام سے ٹریفک کا گذرنا مشکل بن جاتا ہے اور ٹریفک جام کے منظر نظر آتے ہیں بظاہر کار سوار گذرتے چلے جاتے ہیں اور کبھی کبھار کوئی آدھ رکنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کسی وارڈن صاحب کی نگاہِ کرم ڈرائیور کی سیٹ بیلٹ پر چلی جائے تو اکثر لوگ ایسا بھی نہیں کرتے۔

گذارش کروں کہ یہ پابندی ہر ملک میں ہے بلکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں تو چلانے والے کے ساتھ بیٹھی سواری کے لئے بھی ہیلمٹ لازمی ہے یہاں بھی اس پر غور کیا گیا، لیکن اس پر عمل نہ شروع کرنا ہی بہتر ہو گا کہ پہلے ہی لوگ ہیلمٹ سے گریز پا ہیں اور بمشکل اخراجات میں سے رقم نکال کر ہیلمٹ خریدتے ہیں۔چہ جائیکہ ایک اور خریدا جائے، بہرحال یہ اپنی جگہ، یہاں سوال یہ ہے کہ ایسا مقابلہ کب تک جاری رہے گا،میرے خیال میں شاید یہاں تک ہی نہ رُک سکے کہ ابھی ڈرائیونگ لائسنس اور موٹر سائیکل فٹنس کی پڑتال کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے کہ لاہور ٹریفک پولیس کے سربراہ کی طرف سے یہ ہدایت بھی جاری ہوئی ہے کہ ڈرائیور حضرات کو سگنل پر سرخی بتی کی صورت میں سفید لائن سے پیچھے رکنے کو کہا جائے۔

میں نے یہ گذارش کی کہ میں قطعاً اس مہم کے خلاف اور قواعد کی خلاف ورزی کا حامی نہیں اور نہ ہو سکتا ہوں،لیکن یہ تو پوچھ سکتا ہوں کہ اس مقابلے کا حقیقی فائدہ کیا ہے،کیا شہری ٹریفک قواعد سے پوری طرح واقف اور اس پر عمل کرتے ہیں۔اگر ایسا نہیں تو پھر ان ٹریفک وارڈنز کا حقیقی فریضہ تو یہ ہے کہ وہ شہر میں ٹریفک کنٹرول کریں،لیکن ایسا نہیں ہو رہا جس چوراہے کے ایک کونے پر چالانوں کا سلسلہ جاری ہوتا ہے وہاں کوئی بھی وارڈن کسی دوسری خلاف وروزی کا خیال نہیں رکھتا اور ان کے سامنے ہر چوک میں یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور یہ نظر بھر کر بھی نہیں دیکھتے، نتیجے کے طور پر جو مہذب شہری اشارے کی پابندی کرتے ہیں ان کو پھر سے باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ سگنل بند ہونے کے باوجود لوگ فوری طور پر رکنے کی بجائے جلدی اور تیز رفتاری سے گذر جاتے ہیں اور یوں بند اشارے کے کھلنے پر بھی دوسری طرف کی ٹریفک میں سستی رہتی اور سگنل بند ہونے پر اگلی مرتبہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یوں یہ ٹریفک وارڈنز حضرات اپنی حقیقی ڈیوٹی سے اغماض برت کر لوگوں کو قواعد کی خلاف ورزی کا موقع مہیا کرتے ہیں۔ اگر ایک وارڈن صاحب بھی چوک میں موجود ہوں تو یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی بہت ہی کم ہو جائے گی اور جہاں وارڈنز یہ فریضہ ادا کرتے ہیں وہاں خلاف ورزی بھی بہت کم ہوتی ہے،اِس سلسلے میں یہ عذر بھی پیش کر دیا جاتا ہے کہ سیف سٹی کیمروں سے ای چالان کا سلسلہ شروع ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو چالان گھر پر پہنچ جاتا ہے،اس سلسلے میں عرض ہے کہ ایسا کار والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اکثر کاریں ایک مالک سے دوسرے مالک کو ٹرانسفر نہیں ہوئی ہوتیں اس لئے ای چالان پہلے مالک کو مل جاتا ہے،جو پرواہ کئے بغیر پھینک دیتا ہے کہ اس کا کوئی تعلق نہیں، یوں ایسے چالان جمع رہتے ہیں۔

معذرت خواہ! اپنے شہریوں سے کہ ٹریفک کے معاملے میں ان کی کوتاہی کا ہی ذکر کیا تاہم ایسا نہیں، میں وارڈنز حضرات کی زیادتیوں کے حوالے سے بھی بات کرتا ہوں کہ یہ صاحب ہر اُس شہری کی مرمت کر دیتے ہیں جو ان سے چالان کی وجہ دریافت کرے اور اصرار کرے کہ اُس نے کوئی غلطی نہیں کی،ایسا ہر روز ہوتا اور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس یا وارڈنز کا اصل فریضہ ٹریفک کی بحالی برقرار رکھنا ہے اور یہ چالان والے اختیارات بھی اسی فرض کی ادائیگی کے لئے ہیں جو ادا نہیں کئے جا رہے،بلکہ ”چندہ مہم“ جاری ہے جس کا حساب بھی نہیں دیا جاتا،حالانکہ چوراہوں پر ٹریفک وارڈنز حضرات کی محض موجودگی ہی لوگوں کو خلاف ورزی کرنے کی جرأت نہیں دیتی۔ دنیا بھر میں شہری اپنے فرائض کو پہچانتے اور خلاف ورزیوں سے گریز کرتے ہیں،لیکن ہمارے ملک میں ابھی یہ کلچر پروان نہیں چڑھا۔اس پر بہت بحث ہو سکتی ہے جو ہمارا مقصد نہیں،تاہم ہم حکومت سے یہ گذارش کر سکتے ہیں کہ عوام کے لئے آگاہی مہم کا انتظام کریں اور ٹریفک وارڈنز کو ان کے اصل فرائض ادا کرنے دیں، چالان کرنے کے لئے ”الگ“ بھرتی کر لیں جیسے محکموں پر کئی اور محکمے بنا دیئے گئے ہیں۔

آخری عرض کہ کینال روڈ پر ٹریفک بلاک ہونا اب معمول بن چکا حالانکہ جگہ جگہ انڈر پاس بنے ہوئے ہیں۔ یہ خرابی بھی ٹریفک وارڈنز اور شہریوں کی غلطی کی وجہ سے ہے شہری ”لین“ کی پابندی نہیں کرتے اور وارڈن نظر نہیں آتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں