ٹورنٹو( نمائندہ خصوصی)رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں منعقدہ نیشنل انٹر یونیورسٹی ہیلتھ ڈیٹا اینڈ اے آئی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو اس میدان میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
10 جولائی 2025 کو ٹورنٹو میں منعقدہ نیشنل انٹر یونیورسٹی ہیلتھ ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس میں سونیا سدھو، رکنِ پارلیمنٹ اور نان کمیونیکیبل ڈیزیزز پر یونائٹ (UNITE) چیپٹر چیئر برائے شمالی امریکہ، نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ یہ مشرقی کینیڈا کی سب سے بڑی طالبعلموں کی زیر قیادت صحت اور مصنوعی ذہانت کی کانفرنس تھی، جس میں 300 سے زائد طلبہ اور ماہرین نے شرکت کی۔
سونیا سدھو کے ہمراہ معروف صنعتی رہنما مائیکل ڈوونگ (ہیڈ آف انوویشن، ہوفمین لا روش) بھی موجود تھے۔ سونیا سدھو نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کینیڈین شہریوں کو بہتر انداز میں عمر رسیدہ ہونے اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی صحت اور پالیسی کے شعبے میں اے آئی کو شامل کرنے سے زیادہ مؤثر اور مساوی خدمات کی فراہمی ممکن ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مارک کارنی کی ڈیجیٹل قیادت کے وژن کے تحت کینیڈا کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ذمہ دار اے آئی جدت کو عالمی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔
سونیا سدھو نے STEM فیلوشپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اہم کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور طلبہ کی تکنیکی قیادت کی تعریف کی۔ ان کی تقریر کے بعد پالیسی، ڈیٹا اخلاقیات، اور نوجوانوں کے کردار پر بھرپور بحث و مباحثہ ہوا۔

