ٹورنٹو میں فضائی آلودگی کا خطرہ برقرار، جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے ہوا بدستور مضر صحت

ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) ٹورنٹو میں منگل کے روز بھی فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی، جنگلاتی آگوں کے دھوئیں نے شہر کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ فضائی معیار عالمی سطح پر بدترین شہروں میں شمار کیا گیا۔

ٹورنٹو میں منگل کے روز فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور خراب رہی، جب کہ مختلف علاقوں میں لگی جنگلاتی آگوں کا دھواں شہر میں داخل ہوتا رہا۔ اگرچہ ماحولیات کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ خصوصی ایئر کوالٹی بیان ختم کر دیا گیا ہے، تاہم شہر کی فضا اب بھی صحت کیلئےمضر قرار دی گئی ہے۔

سوئس فضائی معیار نگرانی ایجنسی IQAir کے مطابق، منگل کی صبح ٹورنٹو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں چھٹے نمبر پر رہا، جس سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔اسی دوران شہر میں درجہ حرارت بھی بڑھتا رہا۔ منگل کے دن درجہ حرارت 29 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جب کہ نمی کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت 34 ڈگری کے قریب رہا۔

ماحولیات کینیڈا نے متنبہ کیا ہے کہ فضائی آلودگی سے شہریوں کو آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن، ہلکی کھانسی یا سردرد جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ سنگین علامات کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم بعض افراد میں سانس میں گھٹن، سینے میں درد یا شدید کھانسی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق، بزرگ افراد، حاملہ خواتین، چھوٹے بچے، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اور بیرونی ماحول میں کام کرنیوالے لوگ اس آلودہ فضا سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔سی پی 24 کے موسمیاتی ماہر بل کولٹر نے بتایا کہ “ہفتے کے آغاز میں موسم گرم اور خشک رہے گا تاہم جنگلاتی آگ کے دھوئیں نے فضائی معیار کو متاثر کیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا “اب فضا میں بہتری آ رہی ہے اور جیسے جیسے ہوائیں سمت بدلتی ہیں اور امریکہ کی طرف سے گرم اور مرطوب ہوا داخل ہوتی ہے، شمالی علاقوں سے آنے والا دھواں کم ہوتا جائے گا۔”ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں ممکن ہو، گھر کے اندر رہیں، کھڑکیاں بند رکھیں، فضائی فلٹر استعمال کریں، اور بیرونی سرگرمیوں کو محدود رکھیں تاکہ صحت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں