اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) —ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے اپنے سابق منگیتر حسن زاہد کو ہراسانی، مبینہ اغوا اور تشدد کے الزامات کے باوجود خدا کے واسطے معاف کرتے ہوئے ان پر درج تمام مقدمات واپس لینے کا اعلان کردیا۔
سامعہ حجاب نے یکم ستمبر کو انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حسن زاہد نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی، مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا اور بلیک میل کیا۔ واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حسن زاہد کو گرفتار کیا تھا اور ان پر مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی شروع کی تھی۔
ابتدائی طور پر عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا تاہم 12 ستمبر کو انہیں 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ جیل بھیجے جانے کے بعد سامعہ حجاب نے سابق منگیتر سے صلح اور معافی کی تصدیق کی۔
سامعہ حجاب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حسن زاہد کے اہل خانہ ان کے پاس معافی مانگنے آئے تھے جس پر انہوں نے سابق منگیتر کو معاف کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حسن زاہد نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دوبارہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کریں گے۔
ٹک ٹاکر نے اس تاثر کی تردید کی کہ معافی کسی مالی لین دین کا نتیجہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’’فی سبیل اللہ‘‘ سابق منگیتر کو معاف کیا ہے اور اب ان کی منگنی بھی ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اب حسن زاہد سے کوئی خطرہ نہیں اور وہ خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سامعہ حجاب نے اپنی متعدد ویڈیوز اور انٹرویوز میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ملزم کو سزا نہ ہوئی تو وہ جیل سے رہا ہونے کے بعد بدلہ لیں گے، تاہم اب انہوں نے تمام مقدمات واپس لینے اور معاملہ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

