ٹی 20 ورلڈ کپ: سپر 8 فارمیٹ پر آئی سی سی کو تنقید کا سامنا

ممبئی(سپورٹس ڈیسک)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر 8 مرحلہ متعارف کرانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، سوشل میڈیا صارفین اور مبصرین نے فارمیٹ کو غیر متوازن قرار دے دیا۔ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء کے سپر 8 مرحلے کے لیے آٹھ ٹیموں کی کوالیفکیشن مکمل ہوتے ہی بحث چھڑ گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلے سے طے شدہ سلاٹس کی تقسیم نے دونوں گروپس میں نمایاں عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔

آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل سرفہرست ٹیموں کو مقررہ سلاٹس جیسے سی ون، بی ون، اے ون اور ڈی ون دے دیے تھے۔ اس طریقہ کار کے تحت گروپ ایک میں بھارت، زمبابوے، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ شامل ہوئے کیونکہ یہ ٹیمیں اپنے اپنے ابتدائی گروپس میں پہلی پوزیشن پر رہیں۔

گروپ دو میں پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو رکھا گیا کیونکہ یہ ٹیمیں اپنے گروپس میں دوسری پوزیشن پر رہیں۔مبصرین کے مطابق اس ڈھانچے کے باعث ابتدائی مرحلے میں شاندار کارکردگی دکھانے والی دو مضبوط ٹیمیں سیمی فائنل سے قبل ہی باہر ہو سکتی ہیں، جبکہ کسی ایسے گروپ کی ٹیم کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے جو پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہی ہو۔

تنقید کرنے والوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مشترکہ میزبان سری لنکا کو بھی شیڈول سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر سری لنکا سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرتا ہے تو اسے میزبان ہونے کے باوجود سیمی فائنل بھارت میں کھیلنا ہوگا، جو پہلے سے طے ہے۔آئی سی سی نے اس اعتراض کے جواب میں انتظامی اور سفری مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ میزبانی کے پیش نظر میدانوں اور مقابلوں کے شیڈول کی پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر تھی اسی لیے یہ فارمیٹ اپنایا گیا۔