اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کیلئےاستعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ٹی ایل پی کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات کا امکان نہیں، اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی برقرار رہے گی۔
اسلام آباد میں جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئی، اور اس وقت اس نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے، جن کی اکثریت پنجاب اور کراچی سے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ کے ذریعے ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا کہ جماعت دہشت گردی سے منسلک ہے، خاص طور پر ملک گیر احتجاج کے دوران غزہ کے حوالے سے، جس میں کئی مظاہرین اور پولیس افسران جاں بحق ہوئے اور اہم شاہراہیں بند ہو گئیں۔
رانا ثناء اللہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ٹی ایل پی کو مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک سے ووٹ چرانے کیلئے بنایا گیا تھا‘‘۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پابندی کے پیچھے اس سابقہ استعمال کا کوئی تعلق ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث کوئی بھی جماعت، چاہے سیاسی ہو یا مذہبی، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 11ب کے تحت پابندی کی زد میں آ سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ایل پی پابندی کے دوران کسی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی۔
پابندی کے بعد آئندہ اقدامات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ تین دن کے اندر پابندی کی وجوہات ٹی ایل پی کو جائزے کیلئے بھیجی جائیں گی اور جماعت کے پاس ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کیلئے30 دن ہونگے لیکن جائزے اور اپیل کی مدت کے دوران پابندی برقرار رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اب کالعدم قرار دی گئی جماعت سیاسی طور پر کیسے کام کرے گی؟ دفاتر اور اثاثے سیل ہو چکے ہیں‘‘۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا حتمی فیصلہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کرے گی۔
آئین کے آرٹیکل 17(2) کے تحت وفاقی حکومت پابندی کے اعلان کے 15 دنوں کے اندر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ حکومت کسی جماعت کی تحلیل کیلئےالیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 212 کا بھی سہارا لے سکتی ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان 2015 میں ممتاز قادری کی رہائی کے مطالبے کے تحت قائم ہوئی تھی۔ ممتاز قادری نے 2011 میں توہین مذہب کے قوانین میں اصلاحات پر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا، اور بعد میں اسے پھانسی دی گئی تھی۔
رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ سابقہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کے بعد اب ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی نئی یقین دہانی نہیں ہو سکتی، اور جماعت کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تمام قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

