کینیڈا اور میکسیکو پر بھاری ٹیکسز کا نفاذ ملتوی ہونے سے اوٹاوا اور میکسیکو سٹی کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی راحت ملی ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ انہوں نے امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے ڈونلڈ صدر ٹرمپ کے مطالبے کے جواب میں سرحدی نفاذ کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے نتیجے میں منگل سے نافذ العمل ہونے والے 25 فیصد ٹیرف کو 30 دن کیلئے موخر کردیا جائے گا۔
کینیڈا نے امریکا کے ساتھ اپنی سرحد پر نئی ٹیکنالوجی اور اہلکاروں کی تعیناتی، منظم جرائم، فینٹانل اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے نمٹنے کیلئے تعاون کی کوششیں شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
میکسیکو نے غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کے بہاؤ کو روکنے کیلئے نیشنل گارڈ کے 10 ہزار اہلکاروں کی مدد سے اپنی شمالی سرحد کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، صدر شین بام نے کہا کہ امریکا نے میکسیکو سے بڑے ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کا بھی وعدہ لیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’بحیثیت صدر تمام امریکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا میری ذمہ داری ہے اور میں ایسا ہی کر رہا ہوں‘۔
ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں سے فون پر بات چیت کے بعد اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا کہ ’میں ان ابتدائی نتائج سے بہت خوش ہوں‘، انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے مہینے میں امریکا کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی معاہدوں پر بات چیت کرنے کی کوشش کریں گے، جن کی معیشتیں 1990 کی دہائی میں ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے کے بعد سے امریکا کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت نے کینیڈین ڈالر کو دو دہائیوں سے زیادہ کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سہارا دیا ہے، اس خبر نے وال اسٹریٹ پر ایک دن کے نقصان کے بعد امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز کو بھی بڑھایا اور تیل کی قیمتوں کو کم کردیا، سپلائی چین میں خلل سے خوفزدہ صنعتی گروپوں نے اس تعطل کا خیر مقدم کیا ہے۔
کینیڈین کینولا پروڈیوسرز کے ایک تجارتی گروپ کے سربراہ کرس ڈیویسن نے کہا کہ ’یہ بہت حوصلہ افزا خبر ہے، ہمارے پاس ایک انتہائی مربوط صنعت ہے جو دونوں ممالک کو فائدہ پہنچاتی ہے‘۔
پیر کو برسلز میں ہونے والے ایک غیر رسمی اجلاس میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر امریکا ٹیکسز عائد کرتا ہے تو یورپ اس کا جواب دینے کیلئےتیار ہے، امریکا یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔2020 میں یورپی یونین کو چھوڑنے والے برطانیہ کے بارے میں ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ محصولات سے بچ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر اعتراف کیا تھا کہ ان کے عائد کردہ ٹیکسز امریکی صارفین کے لیے کچھ قلیل مدتی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔
آئی این جی تجزیہ کاروں نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر طے شدہ ٹیکسز تمام امریکی درآمدات کے تقریباً نصف کا احاطہ کریں گے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے امریکا کو اپنی پیداوار صلاحیت کو دگنا کرنے کی ضرورت ہوگی، جو مستقبل قریب میں ایک ناقابل عمل کام ہے۔
دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکسز کینیڈا اور میکسیکو کو کساد بازاری میں دھکیل سکتے ہیں اور اندرون ملک مہنگائی، جمود کا شکار ترقی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو جنم دے سکتے ہیں۔

