“پاکستان آئیڈل”

پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان میں خدا خدا کر کے ایک بڑا پلیٹ فارم تشکیل پا چکا ہے۔ ہمیں ہر حالت میں پاکستان آئیڈل کو سپورٹ کرنا چاہیے تا کہ ان سب لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو جو اس پروگرام کو دوبارہ پاکستان میں لانے کا ذریعہ بنے۔

موسیقی کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے، میرے کچھ مشاہدات اور تجاویز ہیں جو پروگرام میں بہتری لا سکتی ہیں۔ آپ سب کا ان سے مکمل یا جزوی متفق ہونا ضروری نہیں ہے، اور آپ اپنی رائے اور خیالات کا اظہار اپنے کمینٹس کے ذریعے کر سکتے ہیں۔
ذیل میں مختلف حوالوں سے میرے مشاہدات اور تجاویز ہیں۔

“گلوکاروں اور ججز کی کارکردگی”
گانے والے اور ججز دونوں ہی ایک مقررہ فارمیٹ میں بندھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے پروگرام میں کچھ مصنوعی پن اور یکسانیت کا تاثر ابھر رہا ہے۔ اگر گانے والے اپنے کمفرٹ زون سے باہر نہیں نکلیں گے اور گانے میں نئے تجربات نہیں کریں گے، تو ناظرین کے لیے یہ بات زیادہ دلچسپ نہیں رہے گی۔

ججز کی جانب سے دیے جانے والی تبصرے اکثر مخصوص اور محفوظ جملوں تک محدود ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ججز کو زیادہ غیر جانبدار اور تفصیلی تبصرے دینا ہوں گے، خاص طور پر جہاں گانے والوں نے خاص لائنیں گائی ہیں کہ جگہیں کیسی لی گئیں ہیں، سر کیسا لگا یا رچاؤ کیسا رہا وغیرہ وغیرہ۔ زیب بنگش کو بھی اپنے تبصرے میں نئے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے نہ کہ ایک ہی طرح کے مخصوص جملے، اس کے علاعہ گاڑھی انگریزی کا استعمال کم کرنا چاہیے، جو ممکن ہے کہ بہت سے ناظرین اور گانے والوں کے لیے بھی سمجھنا مشکل ہو۔

“نئے تجربات کا فروغ”
گانے والوں کو اپنے گانے کے مقررہ پیٹرن اور کمفرٹ زون سے باہر نکل کر کچھ نیا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ فی الحال، گانے لائیو پرفارمنس کی بجائے سٹوڈیو ریکارڈنگ جیسا تاثر زیادہ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں، مینٹورز اور ججز کو بھی بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ وہ روایتی پیٹرن سے باہر نکل کر پرفارمنس میں جدت لا سکیں۔

“میوزک بینڈ اور ارینجمنٹس”
اگر میوزک بینڈ کی بات کریں تو چند ارینجمنٹس کو چھوڑ کر زیادہ تر کا مزہ نہیں آیا۔ کچھ گانوں میں نیا میوزک دیا جا سکتا ہے، لیکن ہر گانے میں نہیں۔ اگر کچھ گانوں کے اوریجنل میوزک اور پیسز کا استعمال کیا جائے تو یہ زیادہ دلچسپ ہو سکتا ہے، کیونکہ کجھ گانوں کا اصل میوزک ان کی پہچان ہے اور لوگ ان گانوں کے اصل میوزک سے جذباتی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ ابتدائی اقساط میں بانسری کی پرفارمنس مجھے کچھ کن سری اور فلیٹ لگ رہی تھی، جو اب بہتر ہوئی ہے، مگر اب بھی مزید بہتری کی ضرورت ہے جو غالباً بانسری پر نئے افیکٹس لگا کر پوری کی جا سکتی ہے۔۔

“مینٹورز اور کوچز”
کوچز کے حوالے سے، ایک ایسا کوچ ہونا چاہیے جو کلاسیکل میوزک کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور بچوں کو نئے تجربات جیسے الاپ, نئی جگہیں اور سرگم وغیرہ میں مدد فراہم کر سکے۔

“پروڈکشن اور وقت کی تقسیم”
پروڈکشن کے معاملے میں، ہر پروگرام میں غیر ضروری باتوں کا عنصر کچھ زیادہ ہے۔ شروع کے 18 سے 20 منٹ باتوں میں صرف کیے جاتے ہیں تب کہیں جا کر پہلی پرفارمینس ہوتی ہے، ہر قسط میں محض چار پرفارمنس ہی ہوتی ہیں جو کہ بہت کم ہیں۔ ججز کی تعداد تو کم نہیں کی جا سکتی، مگر ہر پرفارمنس پر دو سے تین ججز کی رائے کافی ہونی چاہیے جسے ایڈیٹنگ میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

ہر پروگرام کے شروع اور انفرادی گانے سے پہلے کے خام کلپس دیکھنے والوں کے لیے حیرت کے عنصر کو کم کر دیتے ہیں۔ کوئی بھی نئی پرفارمنس سامنے آتی ہے تو ناظرین کو یہ نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ گلوکار کیا گانے والا ہے، جو ایک اچھے سرپرائز کا تاثر برقرار رکھ سکتا ہے۔ دوسرا ضروری نہیں کے ہر پروگرام میں گلوکاروں کے میک اپ وغیرہ کے کلپس دکھائے جائیں، شروع کے ایک دو پروگرام تک تو یہ کلپس بہتر لگے لیکن اب یہ یکسانیت کا شکار ہیں اور اس کی جگہ کچھ اور کیا جانا چاہیے۔

میری ناقص رائے میں یہ چند تجاویز ہیں جن کے ذریعے پروگرام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

آخری بات میری پہلی والی بات ہی ہے کہ ہمیں مل کر پاکستان آئیڈل کو سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ یہ پروگرام مستقبل میں مزید بہتر ہو سکے اور نئی بلندیوں کو چھو سکے۔