برصغیر کی تقسیم کو پچھتر برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر بھارت اور پاکستان کے تعلقات آج بھی دنیا کے سب سے گہرے اور پیچیدہ تنازعات میں شامل ہیں۔ جنگوں، سرحدی جھڑپوں اور سفارتی تعطل نے دونوں ممالک کی قومی شناختوں اور سیاسی بیانیوں کو تشکیل دیا ہے۔ لیکن ان نعروں اور پوزیشنز کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے: جنگ نے کبھی بھی مستقل امن یا بنیادی تنازعات کو حل نہیں کیا۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور اندرونی معاشی مسائل کے تناظر میں اب یہ سوال نہیں رہا کہ کون درست ہے، بلکہ یہ کہ کیا دونوں جوہری طاقتیں مستقبل کو ماضی پر ترجیح دے سکتی ہیں؟ دشمنی کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور یہ تسلسل اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔
1947، 1965، 1971، اور 1999 میں ہونے والی چار بڑی جنگوں کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے، اور باہمی بداعتمادی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ان تنازعات میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، خصوصاً سرحدی علاقوں کے مکینوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق، 1947 سے اب تک دو لاکھ سے زائد افراد براہِ راست یا بالواسطہ تشدد کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان جنگوں کا نتیجہ صرف وقتی جنگ بندی، تلخ سیاسی بیانیے، بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، اور ایک ایسی نسل ہے جو خوف اور نفرت کے سائے میں پلی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ پائیدار امن گولیوں سے نہیں، بلکہ حکمت، گفت و شنید، اور سیاسی بصیرت سے حاصل ہوتا ہے۔ یورپ، جو دو عالمی جنگوں سے تباہ ہو چکا تھا، بالآخر یورپی یونین کی صورت میں اتحاد اور تعاون کی راہ پر گامزن ہوا۔ 1998 کا گُڈ فرائیڈے معاہدہ شمالی آئرلینڈ میں کئی دہائیوں پر محیط خونریزی کا خاتمہ بنا۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا خاتمہ مسلح تصادم سے نہیں بلکہ سچائی، معافی، اور مذاکرات سے ممکن ہوا۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا، “اگر تم اپنے دشمن سے امن چاہتے ہو، تو تمہیں اس کے ساتھ کام کرنا ہوگا، تبھی وہ تمہارا ساتھی بنے گا۔”
بھارت اور پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ ان کے درمیان صرف ایک سرحد نہیں، بلکہ زبان، موسیقی، تاریخ، تہذیب، اور مشترکہ خواب بھی ہیں۔ دونوں ممالک کو غربت، بے روزگاری، ماحولیاتی بحران، اور تعلیم و صحت کی عدم دستیابی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ صرف 2023 میں، بھارت اور پاکستان نے مشترکہ طور پر دفاعی اخراجات پر 155 ارب امریکی ڈالر سے زائد خرچ کیے۔ اگر اس کا محض ایک حصہ بھی عوامی بہبود پر خرچ کیا جائے تو لاکھوں زندگیاں بہتر بنائی جا سکتی ہیں۔ اصل جنگ بھوک، جہالت اور بیماری کے خلاف ہے—نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف۔
اسی طرح جب بھی بھارت یا پاکستان میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو فوری الزام تراشی کے بجائے غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کو ترجیح دینی چاہیے۔ بغیر ثبوت کے الزامات نہ صرف باہمی تعلقات کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اصل مجرموں کو بچنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ اگر کسی واقعے میں شواہد موجود ہوں، تو اُنہیں عالمی برادری کے سامنے مکمل دیانتداری کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس سے انصاف کا راستہ ہموار ہوگا اور جھوٹے بیانیوں کی گنجائش کم ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو دہشتگردوں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے سے بھی باز رہنا چاہیے۔ حال ہی میں بلوچستان میں ٹرین پر حملہ کرنیوالے گروہ کو بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں میں جس انداز سے پیش کیا گیا، وہ نہ صرف متاثرین کی توہین ہے بلکہ شدت پسندی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
میڈیا کو بھی اپنا کردار ازسرنو جانچنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک میں اکثر ذرائع ابلاغ اشتعال انگیزی، سنسنی خیزی، اور قوم پرستی کو ہوا دے کر ریٹنگز حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اس طرزِ صحافت سے صرف نفرت، بدگمانی، اور غیر یقینی صورتِ حال جنم لیتی ہے۔ جب ڈیڑھ ارب سے زائد لوگ امن اور استحکام کے خواہاں ہوں، تو میڈیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ نفرت کا ایندھن بنے گا یا امید کا چراغ۔ صحافت کو نفرت نہیں، انسانیت کا آئینہ بننا چاہیے۔ وہ کہانیاں دکھائے جو دلوں کو جوڑیں، زخموں پر مرہم رکھیں، اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔
بھارت اور پاکستان دشمنی کیلئےمقدر نہیں۔ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ پرانی دشمنیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں، اگر قیادت جذبہِ مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھے۔ آج دونوں ممالک ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں: یا تو وہ ماضی کی تلخیوں میں گرفتار رہیں، یا ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔ امن کا راستہ آسان نہیں، لیکن یہ راستہ خوشحالی، عزت، اور استحکام کی ضمانت دیتا ہے ، وہ سب کچھ جو جنگ کبھی نہ دے سکی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، عوام بہتر کل کا مطالبہ کریں، اور میڈیا نفرت کی دیواروں کو گرا کر ایک پل کا کردار ادا کرے۔ دنیا نے بہت جنگیں دیکھ لیں۔ اب وقت ہے کہ قیادت امن سنبھالے۔ بس صرف اتنا سوچنا ہے کہ جنگ سب کچھ جلا دے گی، امن سب کچھ بچا سکتا ہے۔

