ریاض(نمائندہ خصوصی / پی ٹی وی)وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورۂ سعودی عرب کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائیگا۔
ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے درمیان قصرِ یمامہ میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور خطے میں امن و استحکام کیلئےمشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کیخلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت سمجھا جائیگااور اس کے دفاع میں مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور سعودی عوام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کیلئےنیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ولی عہد نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی صحت اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے دعا کی۔
دورے کے دوران وزیراعظم کا ریاض پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ کنگ خالد ایئرپورٹ پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور سعودی مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم اور ان کے وفد کو سعودی شاہی پروٹوکول کے تحت گھڑ سواروں کے ذریعے قصر یمامہ لے جایا گیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحٰق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ ماحولیات مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق سعودی ایئر فورس کے طیاروں نے وزیراعظم کے جہاز کو سعودی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی حفاظتی حصار میں لے لیا، جو دونوں ممالک کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کا ثبوت ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں امن اور استحکام کیلئے بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔

