پاکستان اورترکیہ کا توانائی، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبہ میں تعاون پر اتفاق

انقرہ (نامہ نگار)وزیر اعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران پاکستان اور ترکیہ نے توانائی، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبہ میں تعاون پر اتفاق کیا ہےجبکہ انقرہ نے دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انقرہ میں ترک صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور مدد کی رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے مثالی ترقی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ میں شاندار استقبال پر صدر رجب طیب اردوان کے شکرگزار ہیں، ان سے ملاقارت پر خوشی ہوئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طیب اردوان نے 2022کے تباہ کن سیلاب میں ایک بار پھرپاکستان کا دورہ کیا، اس سے پہلے 2010کے سیلاب میں بھی آپ نے پاکستان کادورہ کرکےمتاثرین سےبھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں 50 ہزار سے زائد بےگناہ فلسطینیوں کو شہیدکیا گیا، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے ترکیے کے تعاون کے مشکور ہیں، وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ترکیہ کے ساتھ توانائی،کان کنی،معدنیات اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔قبل ازیں، ترک صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کو خوش آمدید کہتے ہیں، ترکیے اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باہمی رابطے مضبوط دوستی کی علامت ہوتے ہیں ، پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، اور ہم ہرقسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ اپنے بھائی پاکستان کی ہرممکن مدد اور تعاون کیلئے ہر وقت تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبےمیں مشترکہ منصوبےشروع کرنا چاہتے ہیں، جبکہ عالمی امور پر دونوں ملکوں کےخیالات میں مکمل ہم آہنگی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں