پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا دائرہ کار

پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر مختلف سول سروسز کام کر رہی ہیں، ان میں نمایاں طور پرپاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یعنی پی اے ایس اور صوبائی سطح پر کام کرنے والی پروونشل مینجمنٹ سروس یعنی پی ایم ایس شامل ہیں، وقتاً فوقتاً ان دونوں سروسز کے اختیارات، دائرۂ کار اور اہم عہدوں پر تعیناتی کے حوالے سے بحث جاری رہتی ہے،خاص طور پر صوبائی سروس کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ صوبائی سروس ہونے کے ناطے صوبوں کے اہم انتظامی عہدوں، مثلاً چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری سروسز،سیکرٹری ہوم اور کئی دوسرے اہم طاقتور محکموں میں لگانے کے لئے صوبائی افسران کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے، اس کے برعکس وفاقی سروس والوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ وفاقی سطح کی سروسز کو پورے ملک میں انتظامی تسلسل اور یکسانیت فراہم کرنے کا کردار دیا گیا ہے،پی اے ایس افسران کے مطابق ، اس تناظر میں آئین کا آرٹیکل دوسو چالیس بنیادی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

پی اے ایس ، افسروں کے مطابق پاکستان کا آئین سرکاری ملازمتوں کے ڈھانچے اور ان کی تنظیم کے بارے میں واضح اصول فراہم کرتا ہے ،جس کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی اپنی سروسز کے قواعد و ضوابط مرتب کریں، تاہم اس آرٹیکل میں ایک اہم تصور “آل پاکستان سروسز” کا بھی ہے، جنہیں وفاق اور صوبوں دونوں میں خدمات انجام دینے کیلئےبنایا گیا ہے،اسی تصور کے تحت ماضی میں سی ایس پی، ڈی ایم جی اور اب پی اے ایس وجود میں آئی، جس کا مقصد ایک ایسی انتظامی سروس فراہم کرنا تھا جو پورے ملک میں یکساں معیار کی بیوروکریسی مہیا کرے، اس سروس کے افسران وفاق اور صوبوں دونوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور مختلف انتظامی سطحوں پر پالیسی سازی اور عملدرآمد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر ہم اس کا تاریخی پس منظر جاننے کی کوشش کریں تو پاکستان میں وفاقی سول سروس کی روایت دراصل برطانوی دور کی انڈین سول سروس سے جڑی ہوئی ہے، اس سروس کا بنیادی مقصد ایک پیشہ ور، غیر جانبدار اور مؤثر انتظامی نظام قائم کرنا تھا، قیامِ پاکستان کے بعد اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط مرکزی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا، جس نے ملک کے مختلف حصوں میں یکساں انتظامی طریقہ کار کو فروغ دیا،وقت کے ساتھ ساتھ اس سروس نے کئی تبدیلیاں دیکھیں، مگر اس کا بنیادی فلسفہ یہی رہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران ایک مشترکہ تربیت اور قومی نقطۂ نظر کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں،اسے قومی یکجہتی اور انتظامی تسلسل کا نام بھی دیا گیا ہے،جسے وفاقی سروس والے اپنے حق میں دلیل کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں کہ یہ قومی سطح پر انتظامی یکجہتی کو فروغ دیتی ہے۔،پاکستان جیسے وفاقی ملک میں، جہاں مختلف صوبوں کی ثقافت، معاشرت اور سیاسی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، وہاں ایک ایسی سروس کی ضرورت ہوتی ہے جو پورے ملک کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے،پی اے ایس کے افسران مختلف صوبوں اور وفاقی اداروں میں تعینات ہوتے ہیں، جس سے انہیں ملک کے مختلف علاقوں کا تجربہ حاصل ہوتا ہے، یہی تجربہ انہیں پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں ایک وسیع قومی نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے تمام صوبوں میں چیف سیکرٹری اور دیگر اہم انتظامی عہدے دراصل پورے صوبائی انتظامی نظام کے سربراہ ہوتے ہیں، ان عہدوں پر فائز افسران کو نہ صرف صوبائی محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنی ہوتی ہے بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان رابطے کا کردار بھی ادا کرنا ہوتا ہے،اسی لیے روایتی طور پر ان عہدوں پر ایسے افسران تعینات کیے جاتے ہیں جو وفاقی سطح پر تربیت یافتہ ہوں اور جنہیں قومی سطح کے انتظامی معاملات کا تجربہ حاصل ہو،پی اے ایس کے افسران کی تربیت اور کیریئر اسٹرکچر اسی مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا ہے،وفاقی سروس کے افسران سخت مقابلے کے امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں جامع تربیت فراہم کی جاتی ہے، یہ تربیت نہ صرف انتظامی مہارتوں بلکہ قانون، معیشت، پالیسی سازی اور گورننس کے دیگر پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے،اس تربیت کے نتیجے میں یہ افسران مختلف شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں اکثر ایسے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں پالیسی سازی اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے،وفاقی سروس کا ایک اور اہم کردار وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ہے، پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں دونوں سطح یعنی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے،ایسے حالات میں ان افسران کی ضرورت ہوتی ہے جو دونوں نظاموں سے واقف ہوں اور ان کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کر سکیں۔

پی اے ایس کے افسران کے مطابق وہ اس حوالے سے ایک قدرتی پل کا کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کی تعیناتی وفاق اور صوبوں دونوں میں ہوتی ہے، کسی بھی ملک کی بیوروکریسی کا اصل امتحان پالیسی سازی اور اس کے مؤثر نفاذ میں ہوتا ہے، وفاقی سروس کے افسران کو اکثر ایسے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں انہیں بڑے پیمانے پر پالیسی فیصلوں کو عملی شکل دینا ہوتی ہے،چونکہ ان افسران کا تجربہ مختلف علاقوں اور محکموں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے وہ پیچیدہ انتظامی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وفاقی سروس کے افسروں کے مطابق ،صوبائی افسران مقامی سطح کے مسائل سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ان کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے،تاہم وفاقی اور صوبائی سروسز کا کردار ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ تکمیلی طور پر دیکھا جانا چاہیے، وفاقی سروس جہاں وسیع قومی نقطۂ نظر فراہم کرتی ہے، وہیں صوبائی سروس مقامی انتظامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتی ہے،پاکستان کا آئینی نظام دراصل وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کے توازن پر مبنی ہے، اسی طرح سول سروس کا ڈھانچہ بھی اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

پی اے ایس افسران کو اہم انتظامی عہدوں ، صوبوں اور مرکز میں تعینات کرنے کی روایت اسی توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔پاکستان جیسے پیچیدہ وفاقی نظام میں ایک مضبوط اور پیشہ ورانہ بیوروکریسی ناگزیر ہے اور پی اے ایس اس نظام کا اہم ستون ہے جس کا مقصد پورے ملک میں یکساں معیار کی گورننس فراہم کرنا ہے، آئینی فریم ورک، تاریخی روایت اور انتظامی ضرورت اس بات کی حمایت کرتی ہیں کہ وفاقی سروس کو اہم انتظامی عہدوں پر نمایاں کردار دیا جائے، ایک مضبوط اور متوازن سول سروس ہی پاکستان میں مؤثر حکمرانی اور قومی یکجہتی کو یقینی بنا سکتی ہے۔اس ساری بحث کے بعد اصل میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران اپنا کام اپنے دائرہ کار کے مطابق کر رہے ہیں یا نہیں؟ میرے خیال میں موجودہ حالات میں اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے۔