نئی دہلی (بی بی سی/ویب ڈیسک)بھارتی وزیر خارجہ سبرامینم جے شنکر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فون پر خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے بعض باتیں تسلیم نہ کیں تو پاکستان بہت بڑا حملہ کر دے گا۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ اسی رات پاکستان نے حملہ کیا اور بھارت نے فوری کارروائی کی۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سبرامینم جے شنکر نے ایک امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ 9 مئی کی شب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر بھارت نے مخصوص نکات تسلیم نہ کیے تو پاکستان ایک بڑا حملہ کرے گا۔
جے شنکر نے کہا کہ وہ خود اس وقت وزیر اعظم کے ساتھ کمرے میں موجود تھے۔ ان کے بقول، وزیر اعظم مودی نے جواب میں واضح کیا کہ “بھارت بھی حملہ کرے گا”۔ جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ اسی رات پاکستان نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس پر بھارت نے فوری ردعمل دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلی صبح امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور بتایا کہ پاکستان بات چیت کیلئے تیار ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے گزشتہ ماہ واضح الفاظ میں تردید کی تھی کہ بھارت کی مبینہ جارحیت کے بعد پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی درخواست کی گئی تھی۔
امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں ممکنہ جوہری تصادم کو انہوں نے اپنی ذاتی مداخلت، سفارتی دباؤ اور اعلیٰ سطح کے رابطوں سے روکا۔ ان کے بقول، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے کا کریڈٹ اُنہیں جاتا ہے۔
تاہم بھارت، خصوصاً نئی دہلی، کئی مرتبہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایسی کوششوں پر برہمی کا اظہار کر چکی ہے، خاص طور پر مسئلہ کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی کی پیشکش پر۔ٹرمپ جہاں پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف کر چکے ہیں، وہیں بھارتی حکومت اس قسم کی مداخلت کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے اور اسے اپنی خودمختاری میں مداخلت سمجھتی ہے۔

