پاکستان میں ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد لڑکیوں کی کم عمری میں شادی:یونیسیف

اسلام آباد(یونیسیف، ایس پی او، سیو دی چلڈرن)یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد لڑکیوں کی کم عمری میں شادیاں ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً ہر 6 میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ 48 لاکھ لڑکیوں کی شادیاں 15 سال کی عمر سے قبل ہو گئی، جس سے قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

یہ معلومات نیشنل سول سوسائٹی ڈائیلاگ اور ڈسیمنیشن ایونٹ کے دوران سامنے آئیں، جو ’چائلڈ ارلی اینڈ فورسڈ میرج (سی ای ایف ایم) پروجیکٹ‘ کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ تقریب ایس پی او نے امریکی محکمہ خارجہ اور سیو دی چلڈرن کے تعاون سے منعقد کی، جس میں سول سوسائٹی کے رہنماؤں، پارلیمنٹیرینز، بچوں کے تحفظ کے ماہرین، نوجوان نمائندگان اور سرکاری عہدیدار شریک ہوئے۔

سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر خرم گوندل نے کہا کہ حقیقی تبدیلی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی، عزم اور حکومت، سول سوسائٹی اور مقامی شراکت داروں کی اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے۔

ایس پی او میں سی ای ایف ایم پروگرام کے منیجر جمیل اصغر بھٹی نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان میں کی گئی حالیہ تحقیق میں تقریباً 60 فیصد شرکا کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہو چکی تھیں۔

سینیٹر (ر) جاوید جبار نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکیوں کو بااختیار بنانے اور ان کے مستقبل کو محفوظ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر پاکستان کی مشہور خواتین رہنماؤں فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کی کم عمری میں شادیاں کر دی جاتیں تو وہ اتنے سنگ میل حاصل نہ کر پاتیں۔ انہوں نے زور دیا کہ “بچوں کا تحفظ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔”

ایس پی او کی چیف ایگزیکٹو محترمہ عارفہ مظہر نے کہا کہ اس مسئلے پر صرف پروجیکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک مستقل اور کمیونٹی پر مبنی تحریک کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شراکت داروں، نوجوان رہنماؤں اور سیو دی چلڈرن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اختتام نہیں بلکہ بچپن کی شادی کے خلاف جدوجہد کے نئے باب کا آغاز ہے۔

پاکستان میں بچپن کی شادیاں ایک سنگین مسئلہ ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے حکومتی اور سول سوسائٹی کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، تاکہ لڑکیوں کا مستقبل محفوظ اور تعلیم مکمل ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں