“ایوب خان کے دور میں پاکستان نے جرمنی کو قرض دیا، آج عوام بجلی کے بل دینے کے قابل نہیں
لاہور(نامہ نگار)لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں ابوذَر شاد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، کرپشن، اور بڑھتی ہوئی بجلی و ٹیکس شرحوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں تب تک بہتری ممکن نہیں جب تک انصاف کے نظام اور معاشی ترجیحات کو درست نہ کیا جائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’آج کے وزیر، جن کے والد لاہور میں سائیکلوں کے پنکچر لگایا کرتے تھے اربوں روپے کے مالک بن گئے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘‘میاں ابوذَر شاد نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’چار سال تک وہ سینیٹر رہ کر پاکستان نہیں آئے، تنخواہیں بھی لیتے رہے، اور اب نائب وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’قومیں اس طرح ترقی نہیں کرتیں، ترقی کیلئےدیانت داری اور انصاف کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔‘‘صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ’’اگر پاکستان کو درست سمت میں لے جانا ہے تو 5000 روپے کے نوٹ بند کیے جائیں، ٹیکس کی شرح کم اور بجلی کے نرخ کم کیے جائیں۔‘‘
انہوں نے ایوب خان کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت پاکستان نے خود صنعتیں لگائیں، 1960 میں گندھارا کمپنی جیپیں بناتی تھی اور ایوب خان نے جرمنی کو 10 کروڑ روپے قرض دیا تھا جب ایک ڈالر صرف ڈھائی روپے کا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’پی آئی اے نے ایمریٹس ایئرلائن قائم کرنے میں مدد کی تھی مگر آج وہ خود خسارے میں ہے۔ اُس وقت بھارت اور بنگلہ دیش 7 سے 8 سینٹ فی یونٹ پر بجلی خرید رہے تھے مگر پاکستان نے 16 سینٹ پر معاہدے کیے، جن میں اربوں کی کمیشن لی گئی مگر آج تک ان معاہدوں کی تحقیقات نہیں ہوئیں۔‘‘
میاں ابوذَر شاد نے کہا کہ ’’آئی پی پیز (IPPs) اب تک 100 ارب ڈالر سے زائد عوام سے وصول کر چکی ہیں، مگر بجلی کا بحران ختم نہیں ہوا۔ عوام کے خون پسینے کا نچوڑ لیا گیا ہے۔‘‘انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں تو مانگنے والا بھی ٹیکس دیتا ہے — صبح نلکا کھولنے سے پہلے WASA کو ٹیکس دیتا ہے۔‘‘

