پاکستان میں آئین کو قوم کی سمت متعین کرنے والا معاہدہ ہونا چاہیے تھا، مگر یہ بار بار سیاسی طاقت کے کھیل کا میدان بن گیا ہے۔ حکومتیں، اپوزیشن اور عدلیہ ، تینوں اپنی اپنی حدوں سے نکل چکے ہیں۔ اقتدار کی ہوس اور خود پسندی نے آئینی وقار، ادارہ جاتی توازن اور عوامی اعتماد کو زوال کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ہر جمہوری ملک میں آئین قوم کا قطب نما ہوتا ہے ایک ایسا معاہدہ جو حکمرانوں کو حدود میں رکھتا ہے، عوام کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اور ریاست کے اداروں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ لیکن پاکستان میں آئین بارہا ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے، جہاں حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور جج اپنے اپنے مفادات کیلئےاس کا مفہوم بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج آئین کے گرد جو تنازعہ اٹھا ہے، وہ کوئی نیا نہیں بلکہ ماضی کا تسلسل ہے۔ چاہے کل ہو یا آج، یہ محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ ہماری سیاسی ثقافت کے بگاڑ کی علامت ہے جہاں ذاتی مفاد مجموعی قومی مفاد پر غالب آچکا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں جس حکومت کو بھی، چاہے وہ کسی امر کی تھی، اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئی ہو یا اتحادیوں کے سہارے قائم، آئین میں ترمیم کا موقع ملا، اس نے اسے ضائع نہیں کیا۔ چند ایک اصلاحی ترامیم کے سوا، بیشتر ترامیم ہمیشہ اس وقت کے سیاسی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کی گئیں۔ اقتدار میں آنے والی ہر جماعت نے آئین کو اپنی سیاسی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، اور یہی رویہ پاکستان کے آئینی ارتقا کو متنازع بناتا رہا ہے۔
ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ آئینی ترامیم کا سلسلہ جاری ہے، جس پر عوام تو اب زیادہ دلچسپی نہیں لیتے، مگر اپوزیشن میں واضح بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکومت ان ترامیم کو ’’ادارہ جاتی اصلاحات‘‘ قرار دے رہی ہے، لیکن اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ان کا اصل مقصد اقتدار کے توازن کو حکومت کی جانب جھکانا ہے۔ اگر واقعی مقصد اصلاحات ہوتیں تو اس عمل میں بامقصد مشاورت، شفافیت اور قومی اتفاقِ رائے کو یقینی بنایا جاتا۔ مگر جو منظرنامہ ابھرتا نظر آ رہا ہے، وہ جلدبازی، ابہام اور روایتی سیاسی فائدہ اٹھانے کے رجحان سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن حکومت کے ساتھ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے واقعی قومی مفاد کو ترجیح دیتی تو وہ محض نعرہ بازی اور پریس کانفرنسوں پر اکتفا نہ کرتی بلکہ شروع ہی سے سنجیدہ سیاست کے ذریعے حکومت کو ایسی کسی ترمیمی گنجائش ہی نہ دیتی۔
ایسے اقدامات مسائل کو حل نہیں کرتے بلکہ مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایک ایسی معیشت میں جو پہلے ہی کمزور ہے اور جسے استحکام کے لیے سکون درکار ہے، سیاسی محاذ آرائی کا بوجھ کسی بھی صورت میں ملک کے بس کی بات نہیں۔ آئین کو بار بار ذاتی مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں اس تاثر کو مضبوط کرتی ہیں کہ ہمارے حکمران قانون کے تابع نہیں بلکہ قانون کو اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن کا غیر سنجیدہ رویہ اور غیر دانشمندانہ پالیسیاں عوامی اعتماد کے زوال کا بنیادی سبب ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی جماعت ایسی ہو جس پر موقع پرستی اور مفاد پرستی کا الزام نہ لگا ہو — اور اکثر اوقات یہ الزام حقیقت سے زیادہ دور بھی نہیں ہوتا۔ یہی وہ تسلسل ہے جس نے عوام کو سیاست سے بیگانہ اور اداروں کو کمزور کر دیا ہے۔
آئینی بحرانوں میں ایک اہم پہلو عدلیہ کا کردار بھی ہے۔ عدلیہ کو ہمیشہ ریاستی نظام کا توازن برقرار رکھنے والا ستون سمجھا جاتا رہا ہے، مگر بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا کردار ابتدا ہی سے متنازعہ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں عدلیہ نے آمروں کے شب خون اور مارشل لاؤں کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ ان کے تسلسل میں سہولت کار کا کردار بھی ادا کیا۔ جس ادارے سے آئین کے دفاع کی امید تھی، وہ اکثر طاقتوروں کے مفاد میں آئین کی تشریح کرتا رہا۔
تاہم، جسٹس افتخار چوہدری کے دور کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا۔ عدلیہ کے بعض جج صاحبان نے کھلم کھلا سیاسی کردار اپنانا شروع کر دیا۔ عدالتوں کے فیصلے اور بیانات اس طرح کے بننے لگے جیسے وہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان ہوں۔ ازخود نوٹسز کے غیر متوازن استعمال، مخصوص سیاسی معاملات میں غیر معمولی سرگرمی، اور اہم قومی امور پر معنی خیز خاموشی نے اس تاثر کو مضبوط کیا کہ عدالتیں اب مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں رہیں۔
جسٹس ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ اور عمر عطا بندیال جیسے ججوں کے ادوار میں تو یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ عدلیہ کا رویہ انصاف سے زیادہ سیاست سے ہم آہنگ نظر آنے لگا۔ فیصلے قانون کی روح سے زیادہ عوامی بیانیے اور سیاسی فائدے کے مطابق دکھائی دیے۔ بعض جج صاحبان نے خود کو منصف کے بجائے کسی سیاسی مہم کے کارکن کے طور پر پیش کیا۔ کسی ایک رہنما کو “صادق و امین” قرار دیا گیا، جبکہ دوسروں کو رسوائی، نااہلی اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ رویے عدلیہ کی ساکھ کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوئے۔ عوام کے دلوں میں یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ انصاف اب اصولوں پر نہیں بلکہ چہروں پر دیا جاتا ہے۔ قانون کے ایوان میں توازن کے بجائے تعصب نے جگہ لے لی۔ عدلیہ اگر خود سیاست کا حصہ بن جائے تو پھر انصاف کا دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور آئین محض طاقت کے کھیل کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔
ادھر اپوزیشن کی سیاست بھی حالات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، جو کبھی خود کو تبدیلی اور احتساب کی علامت کے طور پر پیش کرتی تھی، اب خود ضد، انتشار اور تصادم کی سیاست کی مثال بن چکی ہے۔ اپنی حکومت کے دور میں مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث یہ جماعت آئینی ترامیم تو نہ کر سکی، مگر صدارتی نظام کے قیام سے لے کر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے تک، ترامیم کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتی رہی۔ وہ موقع تو نہ ملا، مگر اپوزیشن اور ہر مخالف آواز کو دبانے کے لیے منٹوں میں قانون سازی کی جاتی رہی۔ اپوزیشن رہنماؤں، میڈیا اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے گرفتاریوں اور سزاؤں کے ہتھیار کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔
عمران خان کی سیاست کی بنیاد سے لے کر اقتدار تک جرنیلوں کا عمل دخل رہا، اور ان کی تعریف میں دیے گئے لاتعداد بیانات آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ مگر جب انہی اداروں نے فاصلہ اختیار کیا تو وہی عمران خان، جو کبھی ’’ریاستی اداروں کو ملک و قوم کے محافظ‘‘ کہا کرتے تھے، ان اداروں کو سیاسی دشمن قرار دینے لگے۔ اقتدار سے باہر آنے کے بعد اس رویے میں مزید شدت آ گئی۔ پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی اب نعروں، احتجاجوں اور الزام تراشیوں تک محدود ہو چکی ہے۔ نہ کوئی واضح پالیسی ہے، نہ پارلیمانی مکالمے میں شرکت کا جذبہ۔ اپنی ذات اور سیاسی بقا کی خاطر عمران خان نے اپنے ارکان کو اہم پارلیمانی کمیٹیوں سے دستبردار ہونے کی ہدایت دی، جس کے نتیجے میں ان کا قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں کردار تقریباً ختم ہو گیا۔ یہ رویہ نہ صرف پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ جمہوری عمل کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
آج پاکستان کے سیاسی بحران کی جڑ یہی ہے کہ اقتدار کے تمام مراکز خود احتسابی سے عاری اور مکالمے سے خوف زدہ ہیں۔ حکومت اقتدار کو مضبوط کرنے کے جنون میں مبتلا ہے، اپوزیشن تصادم کو سیاسی سرمایہ سمجھ بیٹھی ہے، اور عدلیہ خود کو طاقت کے کھیل میں نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس رویے نے ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان توازن کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ آئین کو ذاتی مفادات، انتقام یا وقتی فائدے کے لیے استعمال کرنا ریاستی نظم کی توہین ہے۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے — اس کا مقصد طاقت بانٹنا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنا ہے۔ جب آئین کو بار بار سیاسی خواہشات کے مطابق موڑا جاتا ہے، تو اس کی حرمت ختم ہو جاتی ہے اور ادارے عوام کے اعتماد سے محروم ہو جاتے ہیں۔
یہ ملک اب کسی نئی ترمیم، کسی نئے نعرے یا کسی نئے عدالتی فیصلے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو اب آئینی شعور، شفافیت اور اخلاقی جرات کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر اصلاح چاہتی ہے تو اسے بامقصد مکالمے اور سنجیدہ پالیسی اپنانی ہوگی۔ اپوزیشن اگر واقعی جمہوریت کی دعوے دار ہے تو اسے پارلیمان میں واپس آ کر قانون سازی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اور عدلیہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کی علامت ہے، سیاست کی شریکِ جرم نہیں۔
سیاسی قوتوں کو سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے، مگر ادارے اور آئین دائمی۔ اگر انہی ستونوں کو کمزور کیا جاتا رہا تو آنے والی نسلوں کے لیے صرف انتشار، بے یقینی اور بداعتمادی بچے گی۔ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے پہلے سیاسی بالغ نظری، آئینی احترام اور قومی مفاہمت کی فضا بحال کرنا ہوگی۔ پاکستان کی تاریخ کا تلخ سبق یہی ہے کہ جب طاقت عقل پر غالب آتی ہے تو ریاست کمزور ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر آئین کو سیاسی مصلحت نہیں بلکہ قومی معاہدہ سمجھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر استحکام، انصاف اور وقار کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

