پاکستان کا روزویلٹ ہوٹل گرا کر نئی عمارت کی تعمیر پر غور:بلومبرگ

نیویارک(بلومبرگ)پاکستان نیویارک میں واقع سو سال پرانے روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں عمارت کو مسمار کر کے اس کی جگہ کثیرالمنزلہ فلک بوس عمارت تعمیر کرنا بھی شامل ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئےاٹھایا جا رہا ہے۔

روزویلٹ ہوٹل جو 2000 میں پاکستان کی ملکیت میں آیا مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں واقع ہے اور اسے پاکستان کے قیمتی غیر ملکی اثاثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔مسلسل مالی نقصانات کے باعث ہوٹل 2020 میں بند کر دیا گیا تھا اور کچھ عرصے کیلئےمہاجرین کے عارضی قیام گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوا۔

حکومت نے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف قرضہ معاہدے کے تحت ہوٹل کیلئےمشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) ماڈل اپنانے کی منظوری دی ہے، جس میں پاکستان زمین فراہم کرے گا اور پارٹنر سرمایہ لائے گا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایک آپشن یہ ہے کہ تاریخی عمارت کو مسمار کر کے اس کی جگہ فلک بوس عمارت تعمیر کی جائے، جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ اگر معاشی طور پر فائدہ مند ہوا تو ہوٹل کو برقرار رکھا جائے۔

وفاقی حکومت ریاستی ملکیت کے اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کیلئے کام کر رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط پوری کی جا سکیں۔ حکومت ہوٹل کے لین دین کیلئےنیا مالی مشیر مقرر کرے گی، جس کیلئےسات گروپس بولی دے رہے ہیں، جن میں Citigroup Inc، CBRE Group Inc، اور Savills PLC شامل ہیں۔

اسی دوران، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) نے 2025 کی پہلی ششماہی میں قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو تقریباً دو دہائیوں میں پہلا موقع ہے، اور یہ قومی ایئرلائن کی مجوزہ فروخت کیلئےمثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت کے اقدامات بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل اور ملکی غیر ملکی اثاثوں کی قدر میں اضافے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس میں روزویلٹ ہوٹل کا مستقبل کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں