اسلام آباد (نامہ نگار،اے پی پی) – رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پاکستان کی چین کو سمندری غذاؤں کی برآمدات 15 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 12 کروڑ 19 لاکھ 30 ہزار ڈالر تھیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی اور ماہی گیری کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون اور بہتر کولڈ چین لاجسٹکس کی عکاسی کرتا ہے۔
“پاکستان کی چین کو سی فوڈ کی اہم برآمدات میں”
فروزن فش: 4 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، گزشتہ سال 3 کروڑ 1 لاکھ 90 ہزار ڈالر۔ برآمدی مقدار 2 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار کلو۔
تازہ کیکڑے: 2 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار ڈالر (35 لاکھ 30 ہزار کلوگرام)، گزشتہ سال 2 کروڑ 26 لاکھ 50 ہزار ڈالر۔
فروزن کٹل فش: 2 کروڑ 2 لاکھ 90 ہزار ڈالر (80 لاکھ 40 ہزار کلوگرام)، گزشتہ سال 1 کروڑ 98 لاکھ 30 ہزار ڈالر۔
فروزن سارڈین، سارڈینیلا، بریسلنگ یا اسپرَیٹس: 1 کروڑ 12 لاکھ 40 ہزار ڈالر (1 کروڑ 83 لاکھ 90 ہزار کلوگرام)، گزشتہ سال 30 لاکھ ڈالر۔
سی ای این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اب چین کا سب سے بڑا سی فوڈ برآمد کنندہ بن گیا ہے، جس نے روس اور انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دیا، جن کی برآمدات بالترتیب 83 لاکھ 90 ہزار ڈالر اور 13 لاکھ 30 ہزار ڈالر تھیں۔
تجارتی حکام کے مطابق اس مسلسل سہ ماہی اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سمندری غذائیں چینی منڈی میں زیادہ متنوع اور مسابقتی ہوتی جا رہی ہیں۔ چینی ہوائی اڈوں پر ’گرین چینل’ کلیئرنس نظام کی بدولت مصنوعات آمد کے 48 گھنٹوں کے اندر صارفین تک پہنچائی جا سکتی ہیں، جو معیار اور قیمت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

