پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ شبانہ محمود کو برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ بنا دیا گیا

لندن (رائٹرز) —پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ شبانہ محمود کو برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب نائب وزیراعظم انجیلا رینر نے نئے گھر پر جائیداد ٹیکس کی ادائیگی میں غلطی کے باعث استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم اسٹارمر نے اپنے قریبی ساتھیوں کو نئی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو نائب وزیراعظم بنایا جبکہ ان کی جگہ وزیر داخلہ یویٹ کوپر کو وزیر خارجہ مقرر کیا۔ یویٹ کوپر کی جگہ سابق وزیر انصاف شبانہ محمود کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔

لیبر پارٹی کی 44 سالہ شبانہ محمود کو ایک ”محفوظ اور قابل بھروسہ شخصیت“ قرار دیا جاتا ہے، جو سنجیدہ سیاستدان ہیں اور بطور وزیر انصاف کئی اہم فیصلے کر چکی ہیں۔

اس ردوبدل کے نتیجے میں:

ڈیوڈ لیمی کو نائب وزیراعظم بنایا گیا مگر انہیں وزارت خارجہ چھوڑنا پڑی۔

یویٹ کوپر کو وزیر خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔

شبانہ محمود کو وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔

ادھر انجیلا رینر، جنہوں نے وزارت اور پارٹی کی نائب قیادت دونوں سے استعفیٰ دیا، اسٹارمر کی ٹیم سے رخصت ہونے والی آٹھویں اور سب سے سینئر وزیر ثابت ہوئیں۔ آزاد مشیر برائے وزارتی معیار کے مطابق انہوں نے ٹیکس سے متعلقہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

لیبر پارٹی کو اس وقت دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ تازہ ترین سروے میں وہ نائجل فراج کی پاپولسٹ ریفارم یوکے پارٹی سے پیچھے جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ردوبدل اسٹارمر کی حکومت کے لیے ایک اہم آزمائش ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں