پنجاب: تریموں، سدھنائی، بلوکی پر بدستور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

لاہور / ملتان (نامہ نگار / پی ڈی ایم اے رپورٹس)پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن اور پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب پر تریموں اور دریائے راوی پر بلوکی و سدھنائی ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔ تریموں سے نکلنے والا نیا سیلابی ریلا 48 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کا امکان ہے۔

دریائے چناب: ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد و اخراج 4 لاکھ 85 ہزار 693 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔دریائے راوی: ہیڈ بلوکی اور ہیڈ سدھنائی پر بھی بدستور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔پی ڈی ایم اے الرٹ: پنجاب کے دریاؤں میں خطرناک سیلاب کے پیش نظر وارننگ جاری، شہریوں کو دریاؤں کے قریب جانے سے منع کر دیا گیا۔

ملتان کی صورتحال: ڈپٹی کمشنر ملتان کے مطابق تریموں سے نکلنے والا چار لاکھ 14 ہزار کیوسک کا ریلا 2 روز میں ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا۔ دریائی علاقوں کے رہائشیوں کو گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ 36 گھنٹوں میں ڈسچارج کی رفتار کم رہنے کے باعث ریلا کمزور نہیں ہوا، مزید شہریوں کو ریلیف کیمپس منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اگر پانی کی شدت بڑھی تو شگاف ڈالنے کا فیصلہ دوبارہ زیر غور آئے گا۔

دریائے ستلج: گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی۔جنوبی پنجاب: 7 تا 9 ستمبر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

“تازہ اعداد و شمار (پی ڈی ایم اے پنجاب)”
ہیڈ تریموں: 4 لاکھ 49 ہزار کیوسک
چنیوٹ پل: 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک
قادرآباد ہیڈ ورکس: 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک

پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ حفاظتی اقدامات اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف سیر و تفریح اور ماہی گیری سے مکمل گریز کریں۔پنجاب کے دریاؤں میں جاری انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے ملتان اور جنوبی پنجاب کے اضلاع کو بڑے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حکام کی جانب سے مسلسل مانیٹرنگ اور عوام کو ریلیف کیمپس میں منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں