لاہور (وقائع نگار خصوصی)پنجاب حکومت نے مستقل ملازمت دینے والا قانون منسوخ کرتے ہوئے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اب بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ پیکیج پر بھرتی کیا جائے گا، اور ایسے ملازمین پنشن کے حقدار نہیں ہوں گے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (ری پیل) آرڈیننس 2025 یکم نومبر سے نافذ ہو چکا ہے، جس کے ذریعے پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کو منسوخ کر دیا گیا۔ یہ آرڈیننس پیر کے روز پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سرکاری خزانے پر پنشن کی صورت میں بڑھتے مالی بوجھ کو کم کرنے کیلئےکیا گیا ہے۔ نئے آرڈیننس کے تحت اب چار سالہ کنٹریکٹ سروس کے بعد مستقل تقرری کا عمل ختم کر دیا گیا ہے۔
تاہم آرڈیننس میں وضاحت کی گئی ہے کہ 2018 کے قانون کے تحت کیے گئے تمام فیصلے اور اقدامات بدستور مؤثر رہیں گے، یعنی وہ فیصلے ایسے ہی تصور کیے جائیں گے جیسے قانون منسوخ نہ ہوا ہو۔
منسوخ شدہ قانون کے مطابق، کوئی بھی کنٹریکٹ ملازم جو چار سال تک مسلسل خدمات انجام دے چکا ہو، اسے مستقل تقرری کے لیے اہل سمجھا جاتا تھا، بشرطیکہ اس کے لیے اسامی موجود ہو، ملازم کی کارکردگی تسلی بخش ہو اور قابلیت درکار معیار پر پوری اترتی ہو۔
نئے نظام کے تحت محکمانہ بھرتیاں اب مستقل اسامیوں کے بجائے مکمل کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوں گی۔
سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایسے ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ اقدام صوبائی خزانے پر پنشن کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پہلے سے کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کے مستقبل کے بارے میں ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ بعض حکام کے مطابق نیا قانون ان پر اثر انداز نہیں ہوگا، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس سے مستقل ہونے کی اہلیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سیکریٹری قانون آصف بلال لودھی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہ ملا، البتہ سیکریٹری ریگولیشنز میاں ابرار احمد نے تصدیق کی کہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے مگر نئے آرڈیننس کے اثرات کے بارے میں تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
سینئر سول سرونٹ نے کہا کہ “حکومت کو یا تو مستقل ملازمت کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں یا مارکیٹ کے مطابق مسابقتی تنخواہیں دینا ہونگی کیونکہ ایسے اقدامات سے انسانی وسائل کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔”

