پنجاب میں کمشنرز ،کیا کر رہے ہیں؟

پنجاب کا انتظامی ڈھانچہ آج بظاہر ایک مضبوط اور مربوط نظام دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اندر کئی ایسے دفتر اور عہدے ہیں جن کا کردار وقت کے ساتھ محدود اور غیر واضح ہو چکا ہے، ڈویژنل کمشنر کا دفتر بھی انہی میں شامل ہے، ان دنوں یہ دفتر اپنی پرانی ساکھ کے سہارے چل رہا ہے، ایک وقت تھا جب کمشنر پورے ڈویژن کا حقیقی منتظم، نگران اور ریاستی رٹ کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ پنجاب میں ڈویژنل کمشنرز کا اصل کردار کیا ہے؟ کون سے کمشنرز بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں؟ اور اس عہدے کو انتظامی بہتری کے لیے کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟اس عہدےکا تاریخی پس منظر بڑا شاندار ہے ، برطانوی دور سے لے کر کئی دہائیوں تک کمشنر کا عہدہ انتظامی طاقت کا مرکز رہا، ریونیو، امن و امان، ترقیاتی منصوبے، ضلعی افسران کی نگرانی، حتیٰ کہ سیاسی معاملات میں بھی کمشنر کا اثر و رسوخ نمایاں ہوتا تھا،ڈپٹی کمشنر براہِ راست کمشنر کو جواب دہ اور کمشنر کی ہدایت کو حتمی سمجھا جاتا تھا،تاہم ضلعی حکومتوں کے نظام ، پولیس اصلاحات اور بعد ازاں مختلف ادوار میں اختیارات کی ازسرنو تقسیم نے میجسٹریسی نظام کی روح نکالنے کے بعد ،کمشنری نظام ختم کر دیا اور اختیارات کا ایک ملغوبہ بنا کر کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی جگہ ڈی سی او اور اس کے ماتحت ،ای ڈی او،ڈی او،ڈی ڈی او اور نجانے کون کونسے نئے عہدے متعارف کرا دیے گئے جن کو عوام کو سمجھ ہی نہ آ سکی ، ڈی سی او کا عہدہ ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن افسر کا مخفف تھا مگر لائٹ انداز اور مزاح کیلئےاسے ڈی سی زیرو کہا جاتا تھا ۔

ایک عرصے بعد جب کمشنر ،ڈپٹی کمشنر اور ان کے ماتحت دوسرے عہدے اور دفتر بحال ہوئے تو ان کے اختیارات کا ڈنگ ہی نکل چکا تھا ، کمشنر کے کردار کو خاصا محدود کر دیا گیا اور آج کمشنر کے پاس عدالتی اختیارات ہیں نہ براہِ راست کنٹرول اور نہ ہی واضح فیصلہ کن حیثیت، جو کبھی اس عہدے کی پہچان تھی، موجودہ پنجاب میں ڈویژنل کمشنر بنیادی طور پر ایک کوآرڈینیٹر، مانیٹر اور رپورٹنگ اتھارٹی کے طور پر کام کر رہا ہے ،اب کمشنر کا کردار ، ڈویژن کے اضلاع کے درمیان رابطہ کاری، صوبائی حکومت کے احکامات کی ترسیل اور فالو اپ ،ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ہنگامی حالات میں ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنا رہ گیا ہے۔ اس وقت عملی طور پر کمشنر کے پاس نہ تو براہِ راست عملدرآمد کی طاقت ہے اور نہ ہی ڈپٹی کمشنرز یا محکموں پر مؤثر گرفت، کئی معاملات میں کمشنر کی ہدایات”مشورہ” سمجھی جاتی ہیں حکم نہیں،ان حالات میں آج کا کمشنر ایک عجیب انتظامی خلا میں کھڑا نظر آتا ہے، ایک طرف صوبائی سیکریٹیریٹ براہِ راست اضلاع سے رابطے میں ہے، دوسری طرف ڈپٹی کمشنر خود کو وزیراعلیٰ ہاؤس اور چیف سیکرٹری کے زیادہ قریب سمجھتا ہے، اس صورتحال میں کمشنر اکثر درمیان میں رہ جاتا ہے، مکمل بااختیار نہ مکمل بے اختیار، بلکہ ایک اور ڈاکخانہ، یہی وجہ ہے کہ بعض ڈویژنوں میں کمشنر فعال نظر آتا ہے اور بعض میں محض ایک رسمی دفتر بن کر رہ جاتا ہے ،اسکی حالت ایک ایسے بائی سائیکل جیسی ہے جس کے اندر چین ہی نہیں ہے اور اسی لئے ایک حالیہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو طعنے کے انداز میں کہنا پڑا کہ کمشنر کر ہی کیا رہے ہیں ۔

حالیہ برسوں میں پنجاب کے چند ڈویژنل کمشنرز ایسے ضرور ہیں جنہوں نے محدود اختیارات کے باوجود مثبت اثر چھوڑا، ان کی کارکردگی کو چند مشترکہ اوصاف میں سمویا جا سکتا ہے جن میں، فیلڈ میں موجودگی سر فہرست ہے ، اچھے کمشنرز دفتر تک محدود نہیں رہے بلکہ اضلاع، تحصیلوں اور حتیٰ کہ یونین کونسل کی سطح تک گئے اور ان کی موجودگی نے ضلعی افسران کو متحرک رکھا، بعض کمشنرز نے ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم اور صفائی جیسے شعبوں میں اعداد و شمار کی بنیاد پر مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا، جس سے محض فائل ورک کے بجائے حقیقی کارکردگی سامنے آئی، کارکردگی دکھانے والے کمشنرز نے سیاسی دباؤ کو مکمل رد بھی نہیں کیا اور مکمل قبول بھی نہیں، بلکہ قانونی دائرے میں رہ کر توازن قائم رکھا، جہاں کمشنر نے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز اور محکموں کے سربراہان کو ایک ٹیم کے طور پر چلایا، وہاں نتائج نسبتاً بہتر رہے،یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اچھا کمشنر آج بھی فرق ڈال رہا ہے اور مزید فرق ڈال سکتا ہے،اس وقت پنجاب کے کمشنروں میں فیصل آباد کے راجہ جہانگیر،ملتان کے کمشنر عامر کریم خان ، لاہور کی کمشنر مریم خان اور ساہیوال کے کمشنر آصف طفیل اچھی مثالیں ہیں،دیکھا جائے تو ڈویژنل کمشنرز کے کردار کی کمزوری کے پیچھے چند بنیادی وجوہات ہیں،جن میں اختیارات کی غیر واضح تقسیم ، سیاسی مداخلت ، نتائج کے بجائے فائل کلچر اس پر طرفہ تماشہ جب ایک کمشنر جانتا ہو کہ وہ کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتا ہے تو طویل المدتی اصلاحات کی ہمت کم ہو جاتی ہے،پھر سوال اٹھتا ہے کہ انتظامی بہتری کیلئے کمشنرز کا کردار کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟اگر پنجاب میں واقعی انتظامی بہتری مطلوب ہے تو ڈویژنل کمشنر کے عہدے کو محض رسمی رکھنے کے بجائے فعال بنانا ہوگا، واضح قانونی اختیار ،کمشنر کو کم از کم ترقیاتی منصوبوں، سروس ڈیلیوری اور ضلعی کارکردگی پر واضح فیصلہ کن اختیار دیا جائے، ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژنل سطح کے افسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں کمشنر کی رائے کو مرکزی حیثیت دی جائے، کمشنر کو کم از کم دو سے تین سال کی مدت دی جائے تاکہ وہ اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھ سکے، کمشنر آفس کو محض خطوط کا مرکز بنانے کے بجائے ڈیجیٹل مانیٹرنگ یونٹ بنایا جائے اور کمشنر کو غیر قانونی سیاسی دباؤ سے بچانے کیلئےواضح پروسیجر متعارف کرایا جائے ،دوسری طرف کمشنر کے عہدے کو نظرانداز کرنا انتظامی نقصان ہے،پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ڈویژنل کمشنر کا ادارہ اگر مضبوط نہ ہو تو صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ایک خطرناک خلا پیدا ہو جاتا ہے، کمشنر وہ پل ہے جو پالیسی کو عمل میں بدل سکتا ہے، بشرطیکہ اسے اختیار، اعتماد اور استحکام دیا جائے،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کمشنر کو رسمی کی بجائے دوبارہ انتظامی رہنما کے طور پر دیکھا جائے۔

اس وقت حکمرانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ انہوں نے کمشنر کا عہدہ محض ایک انتظامی کڑی رکھنا ہے یا صوبائی گورننس کو مؤثر بنانے کا کلیدی ستون؟ اگر نیت واضح ہو اور اختیارات درست سمت میں استعمال ہوں تو کمشنر کے دائرۂ کار میں ایسے بے شمار کام آتے ہیں جو براہِ راست عوامی خدمت، شفافیت اور ترقی سے جڑے ہوئے ہیں،سب سے پہلے صحت ، تعلیم اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ ہے، جو صرف کاغذی رپورٹس سے نہیں بلکہ فیلڈ میں موجودگی سے ہی پورا ہو سکتا ہے،ایک اہم سوال کمشنرز کی کارکردگی کے جائزے کا ہے؟یہ جائزہ صوبائی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، سب سے بڑھ کر کمشنر کی جانچ، محض فائلوں کی تعداد یا اجلاسوں کی کثرت سے نہیں بلکہ اس بات سے ہونی چاہیے کہ وہ صوبائی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں کتنا مؤثر کردار ادا کر سکا، اگر یہ اصول اپنایا جائے تو کمشنر کا عہدہ محض انتظامی سیڑھی نہیں بلکہ گورننس کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔