پنجاب پولیس آج بھی انگریزوں کے زمانے کی استعماری پولیس ہے

پاکستان کے ضلع قصور میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک چھوٹا سا پولیس ریڈ نہیں، بلکہ ایک بڑے سماجی، قانونی، انتظامی اور ریاستی بحران کی علامت ہے۔ ایک نجی گھر میں چند نوجوان لڑکے اور لڑکیاں — جو غالباً متمول اور تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے — کسی خوشی کی تقریب میں شریک تھے، نہ کوئی سڑک بند ہوئی، نہ قانون توڑا گیا، نہ کوئی عوامی بے چینی پھیلی۔
لیکن پولیس نے نہ صرف ان کے گھر پر چڑھائی کی، بلکہ ان کی ویڈیوز بھی بنا کر سوشل میڈیا پر شراب، رقص اور بے حیائی جیسے الزامات کے ساتھ شیئر کیں۔ یہ عمل واضح طور پر ماورائے عدالت سزا دینے کے زمرے میں آتا ہے — ایک ایسی سزا جو پولیس نے خود ہی طے کی، نافذ کی اور پھر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آج کے نوجوانوں کے پاس خود کو مصروف رکھنے یا اظہار کا کوئی مہذب، قانونی یا سماجی راستہ باقی نہیں چھوڑا گیا ہے۔ انہیں نہ کسی سنجیدہ قومی مسئلے پر آواز اٹھانے دی جاتی ہے، نہ وہ مہنگائی، بیروزگاری یا بدانتظامی کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں، اور نہ ہی وہ عالمی مظلوموں جیسے فلسطینی عوام کے حق میں مظاہرہ کرنے کے حق دار سمجھے جاتے ہیں۔
جب ہر مثبت راہ بند کر دی جائے تو نوجوان آخرکار وہی کریں گے جس پر ریاستی طاقت ان پر چڑھ دوڑتی ہے۔ اور ایسے میں ہمارے پاس پولیس کا وہ نظام ہے جو جاہل، بدمعاش اور قانون کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے والے افسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ افسران معمولی معمولی باتوں پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج کرتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں، آنسو گیس کے شیل پھینکتے ہیں، تذلیل کرتے ہیں۔ اس وقت پولیس سے محض بات کرنا بھی اپنی بے عزتی کرانے کے مترادف ہے۔
قصور میں نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر تذلیل، اخلاقی اقدار کا دفاع نہیں، بلکہ سراسر ایک خود ساختہ اور عوامی تماشہ بنائی گئی سزا ہے — اور اس پر متعلقہ پولیس افسران کو صرف معطل کرنا کافی نہیں۔ ان نوجوانوں کی عزت نفس، مستقبل اور خاندانوں کو جو دھچکہ لگا، اس کی تلافی کے طور پر پنجاب پولیس کو عدالت کے ذریعے کم از کم پانچ پانچ کروڑ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنا چاہیے تاکہ آئندہ قانون کا مذاق بنانے سے پہلے ہر پولیس اہلکار سو بار سوچے۔ اس ملک میں نوجوانوں کو سر اٹھا کر جینے کا حق دیا جائے، نہ کہ انہیں مجرم بنا کر پیش کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں