پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے سمری وفاقی حکومت کو بھیج دی ہے۔ اس کے ساتھ صوبے میں نئے اسلحہ لائسنس کے اجرا پر پابندی، اور نماز و خطبے کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مذہب کے نام پر اپنی سوچ مسلط کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک و قوم کے ہمدرد نہیں ہو سکتے، اور انتہا پسند جماعت پر پابندی کا فیصلہ امن و امان کی بحالی کے لیے کیا گیا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ دفعہ 144 صوبے بھر میں نافذ ہے، چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یا اشتعال انگیز مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف پیکا قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے، بصورتِ دیگر ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے۔ مزید کہا گیا کہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور خطبے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ 2016 سے 2024 تک فسادات کے 692 مقدمات درج ہوئے، جبکہ 2025 میں اب تک 108 ایف آئی آرز ہو چکی ہیں جن میں 71 دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبے میں پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، مگر عوام نے احتجاج کی کال کو مسترد کر کے امن کا ساتھ دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں