پشاور… خیبر پختونخواہ کا وہ شہر ہے جس نے تاریخ کے بے شمار ادوار کو اپنی آنکھوں کے سامنے بدلتے دیکھا۔ کبھی یہ یونانیوں کی گزرگاہ تھا، کبھی بدھ خانقاہوں کا مرکز، کبھی افغان لشکروں کا پڑاؤ، اور کبھی شاہراہِ ریشم کے تاجروں کا سب سے اہم پڑاؤ۔ ایک وقت تھا جب پشاور کو پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا؛ اس کی فضا میں گلِ داؤدی کی مہک، قہوے کی خوشبو اور داستان گوئی کی روایت بسی ہوئی تھی۔ لیکن آج دل یہ سوال کرتا ہے: پھولوں کا وہ شہر پشاور کہاں، جو کبھی مہکتا تھا؟ وہ پشاور، جو چند دہائیوں پہلے صاف ستھرا، منظم اور زندگی سے بھرپور تھا، آج کا منظر دیکھ کر حیران بھی کرتا ہے اور دل گرفتہ بھی۔ وہ شہر جس میں بیٹھکیں آباد تھیں، بازار کھچا کھچ ہوتے تھے، اور جو اپنی شادابی اور خوشبو میں مثال رکھتا تھا، وہی شہر آج گرد، شور، بے ہنگم ٹریفک، بدبو اور کوڑے کے انباروں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے، جہاں سانس لینا بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
قصہ خوانی بازار، جو کبھی کہانیوں، قہوہ خانوں اور بیٹھکوں کی وجہ سے مشہور تھا، آج بے ہنگم ٹریفک، تجاوزات، شور اور گندگی کا ایسا مجموعہ بن چکا ہے کہ پیدل چلنا بھی ایک امتحان ہے۔ رکشے، چنگ چی، موٹر سائیکل اور ٹھیلے ایک دوسرے سے یوں الجھے دکھائی دیتے ہیں جیسے نظم و ضبط کا کوئی وجود ہی نہ رہا ہو۔ جگہ جگہ مین ہول کھلے پڑے ہیں، پائپ ٹوٹے ہوئے ہیں، جن سے گندا پانی سڑکوں پر بہتا رہتا ہے، اور یہ منظر نہ صرف بازار تک محدود ہے، نہ کسی ایک محلے تک۔ اگر کہیں بارش ہو جائے تو پھر پورا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ مرکزی سڑکیں ندیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، گڈھے اور کھلے مین ہول پانی میں چھپ جاتے ہیں، حادثات بڑھ جاتے ہیں، اور شہر کی بدنظمی پوری طرح ننگی ہو جاتی ہے۔ یہ سب انتظامیہ کی نااہلی ہی نہیں بلکہ شہریوں کی جان کے ساتھ کھلا مذاق بھی ہے۔
بدانتظامی صرف ٹریفک یا صفائی تک محدود نہیں رہی؛ اس کا سب سے خوفناک اظہار فضائی آلودگی کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ گندگی، کھلا سیوریج، جگہ جگہ جمع پانی، ٹوٹی سڑکوں سے اٹھتی گرد اور دھول نے شہر کی فضا کو مسلسل آلودہ کر دیا ہے۔ سفید کپڑا پہننا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، کچھ ہی دیر میں دھول سے اَٹا ہوا ہو جاتا ہے۔ ہر طرف گندگی اور دھول کے بادل فضا میں ایسے معلق رہتے ہیں کہ سانس لینا بھی آزمائش بن جاتا ہے۔ اسی آلودگی کے باعث کھانسی، گلے کی خرابی، سانس کے مسائل، آنکھوں کی جلن اور دمے جیسی بیماریاں خطرناک حد تک عام ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ میں ہر دوسرے مریض کی حالت اسی شہر کی آلودہ فضاؤں کی دین ہے۔
پشاور صدر بھی کبھی سکون، ترتیب اور اعلیٰ ذوق کا مرکز ہوتا تھا۔ فیملیاں یہاں اطمینان سے شاپنگ کرتی تھیں، طلبا ہوا خوری کے لیے آتے تھے، اور ادیب و دانشور کیفیز میں ملکی اور ادبی موضوعات پر گھنٹوں گفتگو کرتے تھے۔ آج وہی صدر چند کلومیٹر کا علاقہ ہے جسے عبور کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ لیکن بدنظمی صرف ٹریفک تک محدود نہیں رہی۔ جیسے ہی آپ صدر میں داخل ہوتے ہیں یا کسی بڑے تجارتی مرکز میں پہنچتے ہیں، ایک اور بھیانک حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے: بھیک مانگنے والوں کے منظم گروہ۔ چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں، گود میں نومولود بچے اٹھائے خواتین، اور عمر رسیدہ مرد و خواتین گاڑیوں کے شیشے کھٹکھٹاتے ساتھ ساتھ بھاگتے ہیں۔ گاڑی رُکتے ہی یہ لوگ یوں ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کوئی جبری ٹیکس وصول کیا جا رہا ہو۔ ان کی تعداد سینکڑوں نہیں، ہزاروں میں ہے، اور یہ مسئلہ کسی ایک بازار یا چوک تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر میں پھیل چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے باوجود اس طرف حکومتی اور انتظامی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ بدنظمی پشاور یونیورسٹی، یونیورسٹی ٹاؤن، حیات آباد اور کارخانوں مارکیٹ تک پھیلی ہوئی ہے۔ کبھی علم و تحقیق کا پرسکون مرکز کہلانے والے پشاور یونیورسٹی اور اس کے اطراف کے علاقے آج تجاوزات، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور بہتے گندے پانی کا منظر پیش کرتے ہیں۔ حیات آباد کی کشادہ سڑکیں اور صاف ستھری گلیاں اب جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیروں اور کھلے مین ہولوں سے بھری پڑی ہیں۔ اس کے ساتھ ٹریفک کا ایسا بے قابو بہاؤ ہے کہ نہ پیدل چلنے والا محفوظ ہے اور نہ موٹر سائیکل سوار۔
اس بدنظمی کی سب سے افسوس ناک جھلک صوبائی اسمبلی اور پشاور ہائی کورٹ کی عمارتوں کے باہر ملتی ہے۔ جہاں روز قانون ساز اور قانون کے محافظ آتے جاتے ہیں، وہاں عین دروازوں کے سامنے گندگی کے ڈھیر، کھلے نالے، بے ترتیب پارکنگ اور بدبو شہری بدحالی کی چیخ بن کر اٹھتی ہے۔ اگر یہ شہر کے سب سے بااختیار ادارے اپنے دروازے کے باہر جمع کوڑا برداشت کر سکتے ہیں، تو پھر باقی شہر کا حال خود بخود سمجھ آ جاتا ہے۔
تیرہ برس سے زائد عرصہ ایک ہی سیاسی جماعت اس صوبے پر حکمران رہی۔ ترقی کے بڑے بڑے دعوے ہوتے رہے، لیکن شہری سہولیات، صفائی، ٹریفک، سیوریج، روشنیاں، فٹ پاتھ اور پارکنگ، سب کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ عوام جلسوں اور احتجاجوں کے لیے ووٹ نہیں دیتے؛ وہ روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل کے لیے دیتے ہیں۔ مگر اس شہر کی حالت دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ شہری مسائل حکومتی ترجیحات سے کہیں بہت دور ہیں۔
تاہم مکمل ذمہ داری حکومت پر ڈال کر عوام بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ عام شہری بھی اس بگاڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر کہیں کچرا دان لگا ہو تو اسے استعمال کرنا اپنی توہین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ کھایا تو چھلکا یا ریپر فٹ پاتھ پر پھینک دیا۔ گاڑی میں بیٹھے گنڈیریاں چوسیں تو چوسی ہوئی سڑک پر باہر پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی افسوس ناک رویہ صرف عام شہریوں میں نہیں بلکہ یونیورسٹی کے طلبہ میں بھی عام ہے، جن سے بہتر تربیت اور شعور کی توقع کی جاتی ہے۔ جب تک عوام اپنے رویّے نہیں بدلیں گے، انتظامیہ لاکھ کوشش کرے، شہر کی حالت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے آگاہی مہمات، تعلیمی اداروں میں تربیتی پروگرام اور سخت جرمانوں کی پالیسی ناگزیر ہے۔
پشاور کا مسئلہ انتظامیہ، حکومت اور عوام تینوں کی مشترکہ ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے صفائی، ٹریفک مینجمنٹ، سیوریج نظام اور آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے، اور ساتھ ہی شہری اپنی عادات میں بہتری لائیں، تو یہ شہر دوبارہ اپنے ماضی کی خوشبو پا سکتا ہے۔ ورنہ گندگی کے ڈھیر، دھول کے بادل، کھلے مین ہول، بہتا گندا پانی، بھیک مانگنے والوں کے جتھے اور آلودہ فضا اس شہر کی پہچان ہی رہے گی۔ پشاور کے شہری اپنے شہر کو اس حالت میں دیکھنے کے مستحق نہیں، اور نہ ہی یہ شہر اس بے حسی کا حق دار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ ساز بھی جاگیں اور شہری بھی۔

