پی آئی اے ،ٹورنٹوسے لاہور

یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ قومی اداروں پر تنقید ،ہمارے ہاں ایک فیشن بن چکا ہے، ہم ایسے معاملات میں بات کرتے وقت ، بلا روک ٹوک اور سوچے سمجھے اپنی انا کی تسکین کیلئے قومی وقار کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں، اپنی رائے مسلط کرتے ہیں اور ایسے اداروں کو خالہ جی کا گھر سمجھ کر حکم چلاتے ہیں، بدقسمتی سے کئی معاملات میں یہ تنقید درست بھی رہی ہے مگر دیانت داری کا تقاضا ہے کہ جہاں بہتری ہو وہاں کھل کر سراہا بھی جانا چاہیے ، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کرنا اب وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک طویل عرصے بعد یہ ادارہ نہ صرف اپنے پرانے روٹس پر واپس آ رہا ہے بلکہ سروس کے معیار میں بھی واضح بہتری نظر آ رہی ہے، مجھے ٹورنٹو سے لاہور کے حالیہ سفر میں لگا کہ پی آئی اے اگر چاہے تو دوبارہ عالمی معیار کی ایئرلائن بن سکتی ہے، ٹورنٹو کینیڈا سے لاہور پاکستان کی پرواز ایک احساس تھااپنائیت کا، وقار کا اور اس اعتماد کا کہ قومی ادارہ ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔سب سے پہلی خوشگوار حیرت ٹورنٹو کے پیئرسن ایئرپورٹ پر اس وقت ہوئی جب چیک اِن کاؤنٹر پر موجود پی آئی اے کا سٹاف خوش اخلاق، مہذب اور پیشہ ور نظر آیا، مسافروں سے بات کرنے کا انداز، رہنمائی کا طریقہ اور مسائل کو سن کر حل کرنے کی سنجیدگی یہ سب وہ چیزیں تھیں جن کی ماضی میں شدید کمی کا شکوہ کیا جاتا رہا ہے، مگر اس بار ماحول مختلف تھا، قطار میں کھڑے مسافروں میں بے چینی کے بجائے ایک اطمینان محسوس ہو رہا تھا، جیسے سب کو یقین ہو کہ معاملہ ٹھیک ہاتھوں میں ہے،چیک اِن کا عمل نسبتاً تیز اور منظم تھا، اضافی سامان، نشستوں کی الاٹمنٹ یا دیگر سوالات ہر چیز کو تحمل اور احترام سے ہینڈل کیا گیا، خاص بات یہ تھی کہ اسٹاف کے چہروں پر بھی بوجھ نہیں، بلکہ ذمہ داری کا احساس نظر آ رہا تھا، یہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو کسی بھی ایئرلائن کی مجموعی ساکھ بناتی یا بگاڑتی ہیں،پی آئی اے کے سٹیشن مینجر ٹورنٹو علی اصغر زیدی کی تعریف نہ کی جائے تو یہ بھی زیادتی ہوگی ،میں نے دیکھا وہ مسافروں سے ایسے مل رہے تھے جیسے وہ ان کے قریبی عزیز ہوں ،بزرگ مسافروں کیلئےویل چئیر پکڑتے ،انہیں بٹھاتے اور انکی پسند کی نشست کا انتظام کرتے نظر آئے،وہ سٹیشن مینجر جیسے بڑے افسر کی بجائے ایک درد دل رکھنے والے پاکستانی زیادہ نظر آئے،سنا ہے جب سے وہ ٹورنٹو میں تعینات ہوئے ہیں ،پاکستانیوں کا پی آئی اے پر اعتماد بحال ہوا ہے ،وہ ٹورنٹو سے پہلے لاہور میں تعینات تھے اس لئے میری ان سے علیک سلیک ہے،لاہور میں بھی انکی تعریف سنی تھی اب ٹورنٹو میں انکا پروفیشنل ازم دیکھنے کا موقع ملا تو وہ اچھے لگے۔

امیگریشن اور سیکیورٹی کے مراحل کے بعد جب جہاز کے قریب پہنچے تو ایک اور خوشگوار تاثر ملا، پی آئی اے کا طیارہ صاف ستھرا، مناسب دیکھ بھال کا حامل اور مجموعی طور پر ایک مثبت تاثر دے رہا تھا، جہاز میں داخل ہوتے ہی کیبن کریو نے مسکراتے چہروں کے ساتھ استقبال کیا، سلام، خیرمقدم اور نشست تک رہنما ئی یہ سب کچھ ایک عرصے سے پی آئی اے کے بارے میں سننے والی شکایات کے بالکل برعکس تھا،فلائٹ کے آغاز سے لے کر اختتام تک عملے کا رویہ قابلِ تعریف رہا، ایئر ہوسٹس اور دیگر کریو ممبران نہ صرف اپنے کام سے واقف تھے بلکہ مسافروں کے ساتھ ان کا برتاؤ خلوص سے بھرپور تھا، کھانے کی سروس بروقت اور منظم انداز میں کی گئی، پاکستانی ذائقے، مناسب مقدار اور پیشکش ،یہ وہ چیزیں ہیں جن کی بیرونِ ملک پاکستانی خاص طور پر قدر کرتے ہیں، طویل سفر میں اچھا کھانا بھی بڑی نعمت بن جاتا ہے، اور یہاں پی آئی اے نے مایوس نہیں کیا،کئی مسافروں کے ساتھ بات ہوئی تو حیرت کی بات یہ تھی کہ زیادہ تر لوگ خوش نظر آ رہے تھے، کسی نے وقت کی پابندی کو سراہا، کسی نے کریو کے رویے کو، اور کسی نے یہ کہا کہ “پی آئی اے اب بہتر ہو گئی ہے۔” یہ جملہ شاید چھوٹا ہو، لیکن اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی کی نوید رکھتا ہے۔ٹیک آف اور لینڈنگ دونوں ہی ہموار رہے،جہاز جدید سہولتوں سے آراستہ نہیں تھا مگر پائلٹ اور عملہ پروفیشنل تھے ، پرواز کے دوران معلومات کی فراہمی، موسمی صورتحال سے آگاہی اور وقتاً فوقتاً اعلانات ،یہ سب اعتماد پیدا کرنے والے عناصر تھے،طویل بین الاقوامی پرواز میں یہ اعتماد ہی مسافر کے سکون کی ضمانت بنتا ہے۔

لاہور ایئرپورٹ پر جہاز سے اترتے وقت عملے کی طرف سے خیرسگالی، سامان کی آمد میں نسبتاً روانی اور مجموعی انتظام بہتر تھا مگر کئی پروازوں کی ایک ساتھ آمد کی وجہ سے سول ایوی ایشن کی سروس بہتر نہیں لگ رہی تھی ،یہ بات درست ہے کہ پی آئی اے کا ماضی مشکلات، بدانتظامی اور ناکامی سے بھرا ہوا ہے، سیاسی مداخلت، مالی بحران اور ناقص فیصلہ سازی نے اس قومی ادارے کو شدید نقصان پہنچایا، مگر یہی ماضی اگر سبق بن جائے تو مستقبل سنور سکتا ہے،حالیہ عرصے میں پرانے روٹس کی بحالی، سروس پر توجہ اور عملے کی تربیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر سنجیدگی پیدا ہوئی ہے۔ٹورنٹو،لاہور روٹ مناٖفع بخش روٹ ہے اور پھر قومی ائیر لائن ، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے ایک جذباتی تعلق ہے، کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد براہِ راست پاکستان جانے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ بار بار سٹاپ اوور، اضافی سکیورٹی چیکس اور طویل انتظار سے بچا جا سکے، پی آئی اے اس خواہش کو پورا کر کے ایک بڑا خلا پر کرتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی ایئرلائن انڈسٹری میں مقابلہ سخت ہے، خلیجی، یورپی اور ترک ایئرلائنز نے سروس اور سہولت کے نئے معیار قائم کر دیے ہیں، ایسے میں پی آئی اے کے لیے صرف “قومی ایئرلائن” ہونا کافی نہیں، بلکہ معیار، اعتماد اور تسلسل ناگزیر ہیں، مجھے حالیہ سفر سے یہ ضرور محسوس ہوا کہ پی آئی اے اس سمت میں قدم بڑھا رہی ہے،البتہ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک اچھی پرواز یا چند بہتر تجربات کافی نہیں ہوتے، اصل امتحان تسلسل کا ہے، اگر یہی معیار برقرار رکھا گیا، عملے کی حوصلہ افزائی اور احتساب ساتھ ساتھ چلتا رہا، اگر سیاسی اثرورسوخ کو ادارہ جاتی معاملات سے دور رکھا گیا، تو پی آئی اے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے بلکہ ایک بار پھر پاکستانیوں کا فخر بن سکتی ہے،ٹورنٹو سے لاہور کا یہ سفر اس لیے بھی یادگار رہا کہ اس نے ایک امید جگائی کہ شاید قومی ادارے مکمل طور پر ناکام نہیں، بس انہیں درست سمت، پیشہ ورانہ آزادی اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، اگر پی آئی اے اسی جذبے، نظم و ضبط اور مسافر دوست رویے کو برقرار رکھتی ہے تو وہ دن دور نہیں جب لوگ فخر سے کہیں گے “ہم پی آئی اے سے سفر کر رہے ہیں اور یہ فخر کسی مجبوری کا نہیں، بلکہ انتخاب کا ہوگا”۔