اسلام آباد/کراچی/لاہور (نامہ نگار خصوصی + نمائندگان)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی رہائی کیلئےملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز پر مختلف شہروں سے 80 سے زائد کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ریحانہ ڈار جیسی اہم رہنما بھی شامل ہیں۔ لاہور، کراچی، ملتان، کوہلو اور دیگر شہروں میں پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
” ریحانہ ڈار کو گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا: پی ٹی آئی”
پارٹی ترجمان کے مطابق، سیالکوٹ سے 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف الیکشن لڑنے والی ریحانہ ڈار کو لاہور میں پولیس نے گرفتار کر کے وین میں زبردستی بٹھایا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں انہیں بزرگ خاتون ہونے کے باوجود پولیس کی بدسلوکی کا سامنا کرتے دیکھا گیا۔
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ”وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب عثمان انور نے اخلاقیات کے تمام اصول پامال کر دیے ہیں۔”

” کراچی میں جھڑپیں، 50 سے زائد گرفتار”
کراچی کے مختلف علاقوں میں ریلیوں، سڑکوں کی بندش اور پولیس کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیاضلع کیماڑی سے 25 کارکن گرفتار،کورنگی سے 20+ کارکن گرفتار،ملیرسے 10+ گرفتارکئے گئے. نیو کراچی میں پولیس اور کارکنوں میں تصادم، ڈی ایس پی ندیم زخمی ہوگئے.یونیورسٹی روڈپر بھی شیلنگ کیساتھ پکڑ دھکڑکی گئی.
“لاہور میں 30 سے زائد کارکنان زیرِ حراست”
لاہور میں بھی مختلف علاقوں میں احتجاج اور ریلیوں کی کوشش کے دوران پولیس نے 30 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے “سڑکیں بند کرنے کی کوشش” پر گرفتاریوں کی تصدیق کی تاہم سینکڑوں گرفتاریوں کی اطلاعات کی تردید کی۔
” کارکنان کی مزاحمت کی تصاویر جاری”
بلوچستان کے ضلع کوہلو، پنجاب کے مختلف اضلاع اور ملتان سے کارکنوں کی گرفتاری کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جن میں پولیس وین میں سوار ہوتے وقت کارکنان کو فتح کا نشان بناتے دکھایا گیا۔پی ٹی آئی ملتان نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے جلسے پر “حملہ” کیا اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
“چھاپے، حلف نامے اور رہائی”
پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے مطابق، پولیس نے 200 سے زائد چھاپے مارے، کئی کارکنان کو حراست میں لینے کے بعد حلف نامے جمع کروانے پر رہا کیا گیا۔
” موٹرویز اور سڑکوں کی بندش”
احتجاجی سرگرمیوں کے سبب صوابی انٹرچینج کو شام 5 بجے بند کر دیا گیا.ہری پور (جھاری کس) میں ہزارہ ڈویژن کے کارکنان نے موٹروے بلاک کر دی گئی جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا.موٹر وے پولیس کی بارہا کوششوں کے باوجود مظاہرین نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بیان میں کہا”5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، اسے آخری کال نہ سمجھا جائے۔”

