پیروی رسولؐ ہی حل ہے!

مجھے تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ حضرت انسان نے ابلیس کے اس خیال کو خود پورا کرنا شروع کر دیا ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے انسان کو دنیا میں بھیجنے کے وقت پر کہا تھا کہ ”یہ انسان زمین پر فتنہ وفسادپھیلائے گا“ جب رب رحیم نے اس کی یہ بات رد کی اور انسان کو اس سیارے پر بھیجاتو ابلیس (شیطان) نے بھی بہکانے کے عمل کا اعلان کر دیا اور یوں خیر و شر کا تنازعہ حضرت آدم علیہ السلام کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر زندگی کے لئے وہ تمام لوازمات مہیا کردیئے جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں دنیا کو امن کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا لیکن چند وقفوں کے حوالے سے ایسا ہوا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت آدمؑ کی اولاد ہی کے درمیان قتل کا عمل شروع ہو گیا تھا، اس کے بعد کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اسی دنیا پر خیر و شر مد مقابل رہے اور ہیں۔ حضرت آدم ؑ کو جنت سے بے دخل ہوئے صدیاں بیت گئیں ان کی اولاد کے درمیان تنازعات ختم نہیں ہوئے اگرچہ اللہ نے اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھی بھیجے ہم انسانوں نے ان کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا اور خود ہر لمحہ پریشانی کے اسباب پیدا کرتے چلے آ رہے ہیں، آج کی دنیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے فارمولے پر عمل پیرا ہے اسی اللہ ہی کی مخلوق نے دنیا کو جنت کی بجائے جہنم بنانے پر کمرکس لی ہوئی ہے، ان دنوں ہر طرف پریشانی کا دور دورہ ہے، روس، یوکرین کی لڑائی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی۔ برصغیرمیں حالات ایسے ہیں کہ کوئی چنگاری آگ بھڑکا سکتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ہم لکھنے والوں کے لئے بھی مسائل ہیں کہ موضوعات کی بہتات ہونے کے باوجود کسی ایک کا ضبط تحریر میں لانے کا فیصلہ مشکل ہو چکا ہے جبکہ اسی سرزمین پر بے لگام تحریریں بھی توجہ پا رہی ہیں۔

میں نے صبح سوچا تھا کہ ایتھوپیا کے آتش فشاں کے حوالے سے خیالات کا اظہار کروں گا کہ خبر چھوٹی چھپی تاہم واقع بہت بڑا ہے کہ سائنسدانوں کے مطابق یہ آتش فشاں بارہ ہزار سال سے سو رہا تھا اور اب جاگا ہے۔ یہ بھی قدرت کی نشانیوں میں ایک ہے کہ بارہ ہزار سال سے خاموش پہاڑ یکایک پھٹ پڑا۔ خبر کے مطابق آتش فشاں کی راکھ اس قدر بھرپور اور اونچی تھی کہ اثرات بھارت اور پاکستان کی فضا تک پہنچے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ انسان اب کیسی مخلوق بن گیا کہ بات امن کی کرتا اور کرتوت بدامنی والے ہیں، بات موسم کی بہتری کی کرتا ہے اور عمل یہ ہے کہ جنگ میں اسلحہ اور تجربات سے خود ہی فضا کو خراب بھی کرتا ہے، بڑا سخی اور ہمدرد بنتا ہے اس کے باوجودغزہ کے لاکھوں مظلوموں پر قیامت گزر گئی اور گزر رہی ہے جبکہ کشمیری اتنے مظلوم ہیں کہ 80سال سے مسلسل دہشت گردی کا شکار ہیں،یہ ایسی ریاستی دہشت گردی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی، جبکہ دنیا امن کا بیوپار کررہی ہے۔ ٹرمپ، اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں جو پوری دنیا کو ردکرکے اپنی دہشت گردی اور نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔

میں اپنے ملک کی بات کروں تو یہاں کب چین اور انصاف ہے، اول تو روزگار کی قلت اور مہنگائی ہے، اگر برسرروزگار ہیں تو دیانت بہت بڑا جرم ہے۔ ادارے ریاستی ہوں یا نجی ہر جگہ ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو کوئی کام کئے بغیر معاوضہ اور مراعات وصول کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے لوگ عیش کرتے اور جو ملازم یا اہلکار دیانت داری،محنت اور عقل و شعور سے کام کرتے اور ہنرمند ہیں ان کے لئے زمین تنگ کر دیتے ہیں، سڑکوں، بازاروں، تجارتی مراکز اور آپس میں بدنظمی اور جھوٹ کا بازار گرم ہے۔ ماتھے پر بڑے بڑے محراب،لمبے لمبے سجدے ہیں اور دکان پر خراب سودا بیچتے ہیں، یہ دکھ اور بڑھ جاتا ہے جب ادویات میں ملاوٹ کی اطلاعات ملتی ہیں، نہ جانے میڈیا کی نگاہ ان مسائل پر کیوں نہیں جاتی۔ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ اور لالہ موسیٰ کے ٹھکانے ایسی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اصل اور نقل میں پہچان مشکل ہو جاتی ہے، حال ہی میں ڈیٹول (لیکوڈ) خریدی، استعمال کرنے لگے تو احساس ہوا کہ یہ تو دو بھی نہیں تین نمبر ہے۔

فضا آلودہ، ذہنوں میں کشمکش، روٹی، روزگارکی تلاش یہ سب مل کر انسان کو نفسیاتی مریض بنا رہے ہیں، کوئی نوٹس نہیں لیتا، اشرافیہ خوش ہے، کسی کے پاس ملک پر چڑھے قرض کا کوئی جواب نہیں کہ یہ کیسے اترے گا اور تو اور پوری دنیا میں اگر آپس کے تنازعات ہیں تووہ مسلمانوں ہی کے ہیں۔ میں نے بات ایتھوپیا کے بارہ ہزار سالہ آتش فشاں کے گرم ہونے اور پھٹنے سے شروع کرکے اسی پر مکمل کرنے کی کرنا تھی لیکن دماغ میں اِدھر اُدھر سے خیالات کا ہجوم چلتا چلا آیا کہ ہاتھ میں پکڑے قلم نے الفاظ بکھیرنا شروع کر دیئے، میں اس خبر سے متاثر ہوا ہوں کہ پہلے ہی انتباہ رسالت مآب یاد آتا ہے اور خوف سے کانپ جاتا ہوں نہ معلوم ہم مسلمان بحیثیت مجموعی یہ سب کیوں بھول جاتے یا یاد نہیں رکھتے، ہم میں سے زیادہ شعور والے اور زیادہ مالدار کو لازمی غور کرنا ہوگا کہ سب سے زیادہ زور سچ اور دیانت پر دیا گیا، ہمیں رسول کریمؐ کے توسط سے جو کتاب حکمت عطا فرمائی گئی اس میں ہر حل موجود ہے اور خصوصی طور پر وہ حصے قابل غور ہیں جس کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ دنیا کتنی بار ختم ہوئی اور پھر سے آباد ہوئی، قوم عاد ثمود کا ذکر موجود،حضرت نوحؑ کی قوم اور کشتی نوح کا تذکرہ بھی تحریر ہے۔ ہمیں غور کی دعوت دی گئی لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، قرآن حکیم میں دور جدید و قدیم کی تمام ایجادات کے حوالے سے ہدایات موجود ہیں اور واضح ہیں، مگر ہم ان پر غور اور عمل نہیں کرتے، حتیٰ کہ ہم نے سائنس اور نئی ایجادات کو رد کیا، حالانکہ دنیا کو تہذیب سکھانے اور نئی ایجادات کے حامل مسلمان تھے، اگر ہم اپنے آباء کے فلسفے اور سائنس کے حوالے سے یاد کریں تو معلوم ہوگا ابوصلت نامی انجینئر نے نہ صرف ڈوبے جہاز نکالنے والی کرین بنائی بلکہ خلاء کے راز بھی آشکار کئے، لیکن جب ہم نے عمل چھوڑ دیا تو سب کچھ چھن گیا۔ علامہ اقبال نے فرمایا ”

تھے تو وہ تمہارے ہی آباء مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اب بھی توبہ کریں، سچی راہ اختیار کریں، بلاوجہ فتوے نہ لگائیں، سائنس عمل ہے اسے رد نہ کریں، اللہ سے مدد مانگیں، مسلمان اپنے اندر مکمل اتحاد پیدا کریں تو سب مشکلیں حل ہوں گی۔