برامپٹن+مسی ساگا(نمائندہ خصوصی)پیل ریجن پولیس نے گھروں میں پرتشدد ڈکیتیوں، کار جیکنگ، فائرنگ اور چوری کی وارداتوں میں ملوث منظم جرائم پیشہ گروہ کے 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر مجموعی طور پر 197 سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں پانچ کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔
پیل ریجن (اونٹاریو) کی پولیس نے ایک طویل اور پیچیدہ تحقیقات کے بعد ’’پروجیکٹ گوسٹ‘‘ کے تحت کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو گرفتار کر لیا، جو برامپٹن، مسی ساگا اور گردونواح کے علاقوں میں کم از کم 15 پرتشدد وارداتوں، گھریلو ڈکیتی، اسلحہ کے زور پر چوری، فائرنگ اور گاڑی چھیننے جیسے جرائم میں ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق ان وارداتوں کے دوران بعض متاثرین کو چاقو مار کر زخمی کیا گیا، جب کہ ایک واقعے میں ایک شہری کو گولی مار دی گئی تھی۔ یہ مجرم گروہ باقاعدہ ایک نیٹ ورک کی شکل میں کام کر رہا تھا، جس میں کم عمر لڑکے علاقے کا جائزہ لیتے، کچھ ملزمان گھروں میں داخل ہو کر لوٹ مار کرتے، جب کہ دیگر افراد قیمتی گاڑیاں اور زیورات بیچنے کا کام کرتے تھے۔
پولیس نے کارروائی کے دوران ممنوعہ اسلحہ، نقلی ہتھیار، موبائل فونز، لیپ ٹاپس، مشتبہ کوکین، اور تقریباً 18 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کا چوری شدہ سامان برآمد کیا، جن میں سے ایک تہائی اشیاء بازیاب کر لی گئی ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا ردعمل پیل ریجن کے ڈپٹی چیف نک میلی نووِچ کے مطابق”شہریوں کے گھروں میں رات کے وقت داخل ہو کر انہیں اسلحے کی نوک پر باندھنا نہ صرف جرم ہے بلکہ ایک شدید ذہنی صدمہ بھی ہے، جس سے خاندانوں کو دیرپا نقصان پہنچتا ہے۔”
برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے بھی پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 197 الزامات اس بات کا پیغام ہیں کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
عدالتی کارروائی ملزمان کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے پانچ ملزمان قانونی طور پر نابالغ ہیں۔ ان تمام افراد پر ڈکیتی، اقدامِ قتل، ممنوعہ اسلحہ رکھنے اور چوری شدہ املاک رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پیل پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف شہریوں کے جان و مال کو لاحق خطرات کو کم کرے گی بلکہ منظم جرائم، غیر قانونی اسلحہ اور پرتشدد گروہوں کے خلاف جاری مہم میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گی۔

