پیوٹن کی ٹرمپ سےگفتگو کے چند گھنٹوں بعد یوکرین پر بڑا حملہ: 23 افراد زخمی

کیف/واشنگٹن/ماسکو (رائٹرز + ایجنسیاں)امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے چند ہی گھنٹوں بعد روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پرڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں کم از کم 23 افراد زخمی ہو گئے اور درجنوں عمارتیں متاثر ہوئیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملے کو “سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اتحادیوں سے فضائی دفاعی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روس نے گزشتہ شب یوکرین پر 539 ڈرونز اور 11 میزائل حملے کیے، جو حالیہ جنگ کے دوران سب سے بڑے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حملے کی شدت سے کیف کے مرکزی علاقوں میں 40 اپارٹمنٹ بلاکس، 5 اسکول، ریلوے انفرااسٹرکچر اور متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ کیف میں واقع اس کے سفارت خانے کے قونصلر سیکشن کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملہ محفوظ رہا۔ کیف کے میئر وٹالی کلیٹسکو نے بتایا کہ 14 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق شہریوں نے رات بھر فضائی حملے کے سائرن، ڈرونز کی آواز اور دھماکوں کی گونج سنی۔
40 سالہ ماریا ہلچینکو نامی رہائشی نے بتایا”میں دھماکوں سے بیدار ہوئی، پہلے ڈرونز کی آواز آئی، پھر زور دار دھماکے ہونے لگے۔”خوفزدہ شہریوں نے پناہ کیلئےزیر زمین میٹرو اسٹیشنوں کا رخ کیا جبکہ کئی رہائشی صبح کے وقت متاثرہ عمارتوں کے باہر صفائی کرتے اور تباہی کا جائزہ لیتے دیکھے گئے۔

صدر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں روس کے حملے کو “ظالمانہ” اور “سوچا سمجھا پیغام” قرار دیا۔ ان کے مطابق”قابل غور بات یہ ہے کہ یہ حملے تقریباً اسی وقت شروع ہوئے جب میڈیا میں ٹرمپ اور پیوٹن کی ٹیلی فونک گفتگو کی رپورٹس آ رہی تھیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ روس کے پاس جنگ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ حملے ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ “ماسکو دہشت گردی کے راستے پر گامزن ہے”۔

کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف کے مطابق، پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ہونیوالی طویل ٹیلی فونک گفتگو میں یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، اور ایران کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔”صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ ہم سیاسی اور مذاکراتی حل کیلئےکوشاں ہیں، مگر اپنے اصل سٹریٹیجک مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

ٹرمپ نے مبینہ طور پر “یوکرین میں جنگ کے جلد خاتمے” پر زور دیا تاہم حملوں کی ٹائمنگ نے نئی عالمی تشویش کو جنم دیا ہے۔یہ حملہ اس وقت ہوا جب مغرب یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں میں کمی اور امریکی امداد میں تاخیر پر پہلے ہی تشویش کا شکار ہے۔ کیف حکومت نے ایک بار پھر بین الاقوامی برادری سے فوری اور موثر فضائی دفاعی سسٹمز فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ شہری علاقوں کو بچایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں