لاہور/ملتان/جھنگ/منڈی بہاالدین/گھوٹکی( نمائندگان ،ایجنسیاں) —دریائے چناب اور ستلج میں شدید طغیانی کے باعث پنجاب کے مختلف اضلاع میں تباہی مچ گئی، جلال پور پیر والا میں سیکڑوں بستیاں متاثر ہوئیں جبکہ شہر میں پانی داخل ہونے کے خدشے کے باعث انخلا جاری ہے۔ جھنگ، منڈی بہاالدین اور گھوٹکی سمیت دیگر علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ریکارڈ ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے دریاؤں میں اونچے اور انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی کیفیت برقرار ہے۔
ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں دریائے چناب اور دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ سیکڑوں بستیاں متاثر ہوئی ہیں اور شہر میں پانی داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مساجد سے انخلا کے اعلانات کیے گئے جبکہ ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر ادارے مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں دریائے چناب کا ریلا دوبارہ ملتان کا رخ کرے گا۔ اس دوران متاثرہ دیہات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور حفاظتی بندوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صورتحال کی براہ راست مانیٹرنگ کر رہی ہیں، تقریباً 2 ہزار افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور آپریشن آخری متاثرہ فرد کے انخلا تک جاری رہے گا۔
جھنگ میں ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث 304 دیہات متاثر ہوئے اور 3 لاکھ 87 ہزار افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات بھی کی۔
منڈی بہاالدین میں ہیڈ قادرآباد بیراج کے قریبی علاقوں میں سیلابی ریلے نے 70 دیہات اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا جبکہ 3 ہزار 665 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ سیکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں بھی پانی میں بہہ گئیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر یہ بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب پر ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے راوی میں کبیروالا اور شاہدرہ کے مقامات پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادھر سندھ کے ضلع گھوٹکی میں دریائے سندھ کی سطح میں اضافے کے باعث کچے کے مزید علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ کوٹری بیراج پر اگرچہ پانی کی سطح میں کمی آئی ہے لیکن حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

