بھاٹی گیٹ میں گہرے نالے میں گر کر جان گنوانے والی 22سالہ سعدیہ ساجد اور اس کی 10ماہ کی بچی ردا کی موت کا وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز نے سخت ترین نوٹس لیا،جو لوگ اس نقصان کے ذمہ دار قرار پائے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا، گرفتاریاں بھی ہوئیں اور حادثے کی جگہ پر حفاظتی اقدامات بھی کروا دیئے گئے لیکن اس سب کے باوجود نجانے کیوں یقین تھا کہ اشرافیہ کو اِس مرتبہ بھی بچا لیا جائے گا اور دیت کا قانون آڑے آئے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔
ایک اعلی شخصیت کے ٹویٹ سے پتہ چلا کہ عدالت نے ”صلح کے بعد“ ملزمان کی ضمانت لے لی ہے، کیس ختم ہو گیا ہے۔ مرنے والی سدرہ کے شوہر غلام مرتضیٰ کو 85لاکھ اور اس کے والد ساجد کو 25لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ (جو حکومت کی طے شدہ رقم سے 87لاکھ 37ہزار 340روپے کم ہیں)۔ یہ صلح اور معافی اسلام کے قانون دیت کے ذریعے ممکن ہو سکی۔ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت تک پاکستان میں یہ اسلامی قوانین نافذ نہیں تھے۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں جماعت اسلامی کے رہنماء اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ نے وفاقی شرعی عدالت میں ”گورے کے قانون“ میں تبدیلی کی درخواست وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی جسے منظور کر لیا گیا۔ ضابطہ فوجداری کی درجنوں دفعات کو غیر اسلامی قرار دے دیا گیا اور ساتھ ہی حکومت کو ہدایت کی گئی کہ قصاص و دیت کے قوانین کا نفاذ کیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان چیف جسٹس افضل ظلہ نے حکومت کو اسمبلی سے منظور کرانے کا کہا۔
بے نظیر بھٹو کے انکار کے بعد نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی نے اس حوالے سے ایک آرڈیننس کا نافذ کر دیا۔ سات سال تک آرڈیننس کا سلسلہ جاری رہا اور پھر میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ”کریمنل لاامینڈمنٹ ایکٹ“قومی اسمبلی سے منظور ہو کر قانون بن گیا، جس کے بعد دیت کے ذریعے ”عدالت سے بالا بالا“اشرافیہ کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ قومی اسمبلی سے ہونے والی ان تبدیلیوں میں دفعہ 299 سے 338تک اسلامی سزاؤں کا اضافہ ہوا۔ اسی قانون کی بدولت ریمنڈ ڈیوس ”دیت ادا کر کے“ آزاد ہوا۔
اسی کی بدولت دو افراد کو کچل کر مارنے اور چار کو زخمی کرنے والی آٹھ کمپنیوں کی مالکہ نتاشہ اقبال آزادی پا گئی۔ شاہ رخ جتوئی اور اس کا ساتھی نواب سراج تالپور اور ان کے دو ساتھی رہائی پا گئے۔یہ کوئی آخری کیس نہیں اس کے علاوہ بھی اور بے شمار کیس ہیں۔ دیت اسلام کے تحت خون بہا ہے جو کہ کسی انسان کے قتل کی صورت میں اس کے ورثا کو ادا کی جاتی ہے۔ ایک انسان کی دیت 30کلو 630گرام چاندی کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔
آج کل دیت کی رقم 98لاکھ 28 ہزار 670روپے ہے جسے کوئی سفید پوش یقینا ادا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اسے اپنی غلطی کی سزا میں جیل بھگتنا ہو گی،جبکہ کوئی بھی طاقتور، امیر، جاگیردار، صنعتکار، جج، اعلی افسر اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر دیت ادا کر کے آزادی پا لیتے ہیں۔ یہ لوگ عدالت سے ”وکٹری کا نشان“بنا کر نکلتے ہیں۔ جیسے باکسنگ رنگ سے گولڈ میڈل جیت کے نکلے ہوں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد آصف کے کم عمر بیٹے ابوذر نے شاہراہ دستور پر ایک سکوٹی کو ٹکر مار کر دو نوجوان لڑکیوں کو مار ڈالا اور صرف پانچ دن میں عدالت سے رہائی پالی، کیونکہ ”ورثا“نے معاف کر دیا تھا۔
اسلام آباد میں چار سال قبل ایک باوردی افسر کی کم عمر صاحبزادی نے ڈرائیور سے ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے ایک 40سالہ شخص سلطان سکندر کو مار ڈالا۔ ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہو گیا چند دنوں بعد مرنے والے کی بیوہ کو دیت کے 69لاکھ روپے ”ادا کرکے“ عدالت میں صلح کی دستاویز پیش کر دی گئی۔کوئٹہ میں سابق ایم پی اے مجید اچکزئی نے دن کی روشنی میں ٹریفک سارجنٹ انسپکٹر عطااللہ کو کچل ڈالا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم کی شناخت بھی ہو گئی لیکن عدالت نے عدم ثبوت پر مجید اچکزئی کو رہا کر دیا دیت کی رقم دی گئی یا طاقت کا قانون چلا یہ انسپکٹر عطااللہ کے گھر والے ہی بتا سکتے ہیں۔
کراچی میں ارب پتی نتاشہ اقبال نے اپنی گاڑی سے موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر 60سال عمران اور 22سالہ بیٹی آمنہ کو مار ڈالا۔ ایک گاڑی کو ٹکر مار کر چار افراد کو زخمی کر دیا۔ پولیس کو ملزمہ نتاشہ کے خون کے نمونوں میں آئس نشے کے ثبوت بھی مل گئے لیکن پھر صرف ساڑھے پانچ کروڑ روپے میں یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ ورثا نے مرنیوالوں کا سودا کر لیا اور جو زخمی تھے انہیں جو ملا وہ الگ تھا۔لاہور میں پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے ورثا نے مقدمہ کرانے کی کوشش کی تو ان پر سیاستدانوں اور افسروں نے دبا ؤڈ الا اور ایک مکان میں انسانی جان کا سودا ہو گیا۔
کچھ عرصہ پہلے اے ٹی ایم کے اندر چوری کرتے ہوئے ایک ذہنی مریض صلاح الدین کی تصویر وائرل ہوئی جو اپنی زبان نکال کے منہ چڑا رہا تھا۔ وہ ذہنی مریض بدترین پولیس تشدد سے پولیس حراست میں مارا گیا۔ طاقتور پولیس اہلکاروں نے اس کے مظلوم والد کی ”انصاف کی کوششیں“ ناکام بنا دیں اور کچھ رقم اور ترقیاتی کاموں کے وعدے پر اسے راضی کر لیا گیا۔2012ء میں کراچی میں ڈی ایس پی اورنگزیب کے بیٹے شاہ زیب خان کا قتل بہت خبروں میں رہا۔ ملزمان شاہ رخ جتوئی، نواب سراج تالپور اور ان کے ملازم سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ نے معمولی تلخ کلامی پر نوجوان شاہ زیب کو گولی ماری تھی،ڈی ایس پی نے ملزموں کو سزا دلوانے کی پوری کوشش کی، لیکن شاہ رخ جتوئی کے باپ سکندر جتوئی اور سندھ کی طاقتور سیاسی شخصیت دیوار بن گئے۔
ملزم کو پاکستان سے فرار کرا دیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان چودھری افتخار کے حکم پر ملزم کو گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا۔ مقدمہ چلا سزا ہو گئی۔ بالآخر ڈی ایس پی کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے اپنا خاندان آسٹریلیا منتقل کرا لیا،ایک اپارٹمنٹ بھی مل گیا،35کروڑ روپے بھی مل گئے، مگر ڈی ایس پی آسٹریلیا میں صرف چھ سال زندہ رہ سکا۔ریمنڈ ڈیوس نے دو نوجوانوں کو گولیاں ماریں اور پھر اس کو بچانے کیلئےآنے والی ریسکیو پارٹی کی گاڑی تلے ایک موٹر سائیکل سوار مارا گیا لیکن چند دِنوں میں ریمنڈ ڈیوس دیت کی ادائیگی کے بعد رہائی ملتے ہی پاکستان سے نکال دیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں مرنے والے دونوں نوجوانوں کے 18عزیزوں نے عدالت میں پیسے وصول کرنے کی تصدیق کی۔ سدرہ اور ردا کی دیت ایک کروڑ دس لاکھ ادا کی گئی، یعنی87کروڑ 37لاکھ 340 روپے کم دیئے گئے۔مریم نواز شریف کو یہاں بھی انصاف مہیا کرنا ہوگا۔

