بیجنگ (رائٹرز) چین میں بدعنوانی کی تحقیقات کے دوران دو اعلیٰ فوجی جنرلوں کو فوج اور کمیونسٹ پارٹی سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صدر شی جن پنگ کی کرپشن کے خلاف جاری مہم کے تازہ ترین حصے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں پارٹی اور ریاست کی تمام سطحوں پر بدعنوانی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق، ترجمان وزارتِ دفاع ژانگ شیاوگانگ نے بتایا کہ مرکزی فوجی کمیشن (CMC) کے نائب چیئرمین ہی ویڈونگ ان 9 افراد میں شامل ہیں جنہیں ’نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کی بنیاد پر برطرف کیا گیا۔ ہی ویڈونگ مارچ سے منظر عام سے غائب ہیں اور ان کے موجودہ مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس کے علاوہ فوج کے سیاسی امور کے سابق سربراہ میاؤ ہوا کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ژانگ شیاوگانگ کے مطابق ان میں سے 8 افراد کو پارٹی کی رکنیت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ماضی میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اعلیٰ ارکان میں شامل رہے ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ ابھی بھی سنگین اور پیچیدہ عمل ہے۔ ژانگ شیاوگانگ نے مزید کہا کہ ہی ویڈونگ، میاؤ ہوا اور دیگر افراد کو سخت سزا دینا پارٹی اور مرکزی فوجی کمیشن کے بدعنوانی کے خلاف عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے اور یہ کارروائیاں عوامی فوج کو زیادہ منظم، متحد اور جنگ کے لیے تیار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس سے قبل، سابق وزیرِ دفاع لی شانگ فو کو 2023 میں صرف سات ماہ بعد نہ صرف عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا بلکہ بعد ازاں مبینہ رشوت ستانی کے الزامات پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا، جس سے شی جن پنگ کی انسدادِ بدعنوانی مہم کی پائیداری اور شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

