چین نے ایئرکرافٹ کیریئر سے جدید لڑاکا طیارے کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیے

بیجنگ(سی سی ٹی وی)چین نے اپنے سب سے جدید ایئرکرافٹ کیریئر فُوجیان سے تین مختلف قسم کے لڑاکا طیارے کامیابی کے ساتھ لانچ کر کے امریکہ کے بعد یہ کارنامہ سر انجام دینے والا دوسرا ملک بن گیا۔

سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی جاری کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا کہ چین کے ففتھ جنریشن جے-35 اسٹیلتھ فائٹر، 4.5 جنریشن جے-15 ٹی فائٹر اور کے جے-600 ارلی وارننگ و کنٹرول طیارے ای ایم اے ایل ایس (EMALS) نظام کے ذریعے کیریئر سے اڑان بھر رہے ہیں۔ چین کے اس اقدام کو ایئرکرافٹ کیریئر ٹیکنالوجی میں ایک اہم ’بریک تھرو‘ اور بحری صلاحیتوں میں ’سنگِ میل‘ قرار دیا گیا ہے۔

تجزیہ کار کارل شوسٹر کے مطابق فُوجیان کی کامیاب تجرباتی پروازیں، جن میں کیٹاپلٹ لانچ اور رُکنے والی لینڈنگ شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ بحری جہاز آئندہ چند ہفتوں میں پیپلز لبریشن آرمی نیوی (PLA Navy) کے بیڑے میں شامل ہو سکتا ہے۔

ای ایم اے ایل ایس نظام کی بدولت طیارے زیادہ وزنی ہتھیار اور ایندھن لے کر طویل فاصلے تک حملہ کر سکیں گے، جو چین کے پچھلے کیریئرز شینڈونگ اور لیاؤننگ میں ممکن نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ چین کو سمندر پار (بلو واٹر) صلاحیت فراہم کرے گا، جبکہ امریکی کیریئر USS Gerald R. Ford کی ٹیکنالوجی کے برابر ہے لیکن فُوجیان روایتی ایندھن سے چلتا ہے جبکہ امریکی کیریئر ایٹمی توانائی سے۔

چین کے بحری بیڑے کی مضبوطی کے ساتھ وہ تائیوان اسٹریٹ سے مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین تک جارحانہ رویہ اختیار کر رہا ہے، جس پر امریکا، جاپان اور فلپائن نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ امریکی قانون ساز ایڈم اسمتھ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان عسکری رابطے ناکافی ہیں اور غلط فہمیوں سے بچنے کیلئےمکالمے کی ضرورت ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق امریکی وفد نے بیجنگ میں چینی وزیراعظم لی چیانگ، وزیر دفاع ڈونگ جون اور نائب وزیراعظم ہی لی فینگ سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آئندہ ممکنہ سربراہی ملاقات کے پیشِ نظر اعلیٰ سطحی رابطوں کی تازہ کڑی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں