چین کا انسداد اجارہ داری قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل کےخلاف تحقیقات کا اعلان

واشنگٹن کی جانب سے چینی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے بعد چین نے کہا ہے کہ وہ انسداد اجارہ داری قوانین کی خلاف ورزیوں پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے خلاف تحقیقات کرے گا۔

بیجنگ کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن نے کہا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پر عوامی جمہوریہ چین کے انسداد اجارہ داری قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’قانون کے مطابق گوگل کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں‘۔

بیجنگ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکی فیشن گروپ پی وی ایچ کارپوریشن، جو ٹومی ہلفیگر اور کیلون کلائن کے مالک ہیں اور بائیوٹیک کمپنی ایلومینا کو ’ناقابل بھروسہ اداروں‘ کی فہرست میں شامل کرے گا۔

چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ اقدام متعلقہ قوانین کے مطابق قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ کرے گا‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ دونوں ادارے مارکیٹ کے عام لین دین کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، چینی کاروباری اداروں کے ساتھ معمول کے لین دین میں خلل ڈالتے ہیں اور چینی کاروباری اداروں کے خلاف امتیازی اقدامات کرتے ہیں۔

چین نے ستمبر میں کہا تھا کہ وہ اپنے سنکیانگ خطے سے کپاس کا ’غیر ضروری بائیکاٹ‘ کرنے پر پی وی ایچ کی تحقیقات کر رہا ہے، جہاں بیجنگ پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں