ڈاکٹر بنگش کا جنازہ اور پرویز بٹ کی رحلت!

موت برحق اور سب نے اپنے اپنے وقت پر عالم بالا کی طرف پرواز کر جانا ہے،لیکن بعض اموات ایسی ہوتی ہیں کہ دِل پر گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں،کہتے ہیں کہ ”سامان سو برس کا پَل کی خبر نہیں“ پنجابی میں اسے یوں کہا گیا ”کیہہ بھروسہ دم دا، دم آوے نہ آوے“ میری زندگی میں بہت کم مواقع ایسے آئے کہ کسی کو دم آخریں کے وقت دیکھا ہو، حتیٰ کہ دادی، والد، تایا جان اور اہلیہ کی روحیں جب قفس عنصری سے پرواز کر گئیں تو اُس وقت بھی میں موجود نہیں تھا، تاہم منگل کو ایک ایسا منظر دیکھنے پر مجبور ہونا پڑا، اس وقت موجود تھا، ایسا دوسری بار ہوا ہے۔ ہمارے ہمسایہ،دوست، بھائیوں جیسے تعلق والے ضیاء اللہ خان بنگش کا پیر کے روز مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا، اطلاع ملی تو ان کے صاحبزادے دی نیوز کے فیضان بنگش سے بات کر کے اظہارِ تعزیت کے بعد نمازِ جنازہ کا وقت پوچھا تو فیضان نے بتایا منگل کو نمازِ ظہر کے بعد نماز ہو گی،وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر مرحوم ے بڑے صاحبزادے نے امریکہ سے آنا تھا اور ایک صاحبزادی بھی بیرون ملک تھیں،نازک حالت کی اطلاع کے بعد وہ دونوں روانہ ہو چکے تھے اور منگل کو علی الصبح پہنچ رہے تھے اسی بناء پر نمازِ ظہر کا وقت تعین کیا گیا، میں اپنے چھوٹے صاحبزادے عاصم چودھری اور بھائی میاں محمد اکرم کے ساتھ پرانے محلے پہنچ گیا، میرا بڑا صاحبزادہ قاسم چودھری اپنے گھر سے براہِ راست آ گیا، ڈاکٹر مرحوم کے گھر کے باہر کافی لوگ موجود تھے، ان کے صاحبزادوں سے ملے، پرانے محلے والوں اور پیپلزپارٹی کے کئی جیالوں سے ملاقات ہو گئی وہاں ہمارے اندرون شہر کے دیرینہ دوست پرویز بٹ بھی تشریف فرما تھے، ان سے ملاقات ہوئی، خیر خیریت کا تبادلہ ہوا، وہ کافی کمزور ہو چکے تھے خوشدلی سے ملے،نماز ظہر کی ادائیگی فردوس جامعہ مسجد میں ہوئی،جس کی انتظامیہ کمیٹی کا کبھی میں رکن اور اس مسجد کا نمازی تھا۔ نماز کی ادائیگی کے دوران چاروں طرف دیکھا تو پرانے ہمسایوں، دوستوں میں کوئی نظر نہ آیا، بعد میں چھوٹے بھائی/کزن مہر خالد سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ باری باری سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، بہرحال گول باغ میں مقررہ جگہ پہنچے تو جلد آنے کے باعث اگلی صف میں جگہ مل گئی، تھوڑی دیر بعد پرویز بٹ بھی لاٹھی ٹیکتے سہارے کے ساتھ آ گئے اور انہوں نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، نماز سے فرصت کے بعد وہ واپس جا رہے تھے کہ اچانک گر پڑے، وہاں موجود حضرات نے لپک کر اُن کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا، نمازِ جنازہ میں موجود ڈاکٹر فضل کو بلایا گیا، انہوں نے چیک کیا،ہارٹ پمپ کرنے کی کوشش کی، لیکن روح تو بڑی آسانی سے جسم چھوڑ چکی تھی وہاں صرف پرویز بٹ کا جسم رہ گیا تھا۔

اللہ اللہ ایک نمازِ جنازہ ادا ہوئی اور دوسرا نماز ادا کرنے کے بعد قید نفس سے رہا ہو گیا اور اس کی تدفین کا مرحلہ پیش آ گیا۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ڈاکٹر بنگش مرحوم اپنی سیاست اور رواداری کے علاوہ سماجی خدمات بھی انجام دیتے تھے اور پرویز بٹ بھی ایک دینی پروانے اور سماجی کارکن تھے، پرویز بٹ(مرحوم) کا تعلق پرانے لاہور سے تھا وہ بھی ہماری طرح پہلے آبائی محلہ چھوڑ کر شادباغ میں آباد ہوئے کہ تب یہی رجحان تھا،پرویز بٹ مرحوم نے اپنی خدمات کا آغاز مرکزی جلوس عید میلاد النبیؐ کے کارکن کی حیثیت سے حصہ لے کرکیا، عنایت اللہ قادری بانی تھے۔ وہ جلد ہی انتظامی کمیٹی کے رکن بن گئے اور پھر سیاسی/سماجی کارکن کی حیثیت سے نمایاں ہوئے، عنایت اللہ قادری سے اختلاف کے بعد بھی وہ عید میلاد النبیؐ کی تیاریوں اور جلوس میں انتظامی حصہ لیتے رہے اور شادباغ منتقل ہونے کے بعد ایک بڑے سماجی کارکن بن گئے،وہ خود تاجر تھے اور تاجروں کی نمائندگی کے لئے میڈیا سے بھی تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔یوں ان سے رابطہ رہتا تھا، ان کی اس اچانک اور کسی تکلیف کے بغیر وفات سے اندازہ ہوا کہ موت کا وقت اور مقام متعین ہے تو موت ایسے بھی آ سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقع چند سال قبل مصطفےٰ ٹاؤن میں بھی پیش آیا، ہم سب سیر کے ساتھی، صبح واک کے بعد بیٹھ کر گپ شپ میں مصروف تھے،تھوڑی دور ایک دوسرے بنچ پر ایک اور صاحب سیر کے بعد بنچ پر آ کر بیٹھے یہ ان کا معمول تھا، ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ اچانک نظر پڑی تو بنچ سے گرتے نظر آئے۔وہ دوست بھاگ کر پہنچے ان کو سیدھا کیا تو ماتھے سے معمولی خون نکل رہا تھا، وہ بے حس تھے، فوری طور پر1122کو بلایا تو انہوں نے چند منٹ کی جدوجہد کے بعد ان کی وفات کا اعلان کر دیا۔ یوں یہ ارواح جسم کو تکلیف دیئے بغیر جاتی دیکھیں جبکہ میری منجھلی بیٹی گڑیا نے میری بیوی کی وفات کے حوالے سے بھی یہ بتایا کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی کی گود میں ہی آنکھیں موند لیں اور روح نے اطمینان سے جسم چھوڑ دیا،انہی حالات کی بنیاد پر کہا کہ ”کیہہ بھروسہ دم دا، دم آوے کہ نہ آوے“

جہاں تک مرحوم ڈاکٹر بنگش کا سوال ہے تو 82برس گذار کر گئے انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گذاری، شادباغ میں کلینک اور مقبول ڈاکٹر تھے، سید شعیب الدین (چاچو) کہہ رہے تھے کہ ہم اور ہمارے جیسے بے شمار ڈاکٹر بنگش سے علاج کراتے کراتے پوتوں والے ہو گئے ہیں اور اب نئی نسلیں ان کے زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹر بنگش ماہر تھے اور بہت کم خرچ والے ڈاکٹر تھے، علاقے میں مقبول، 1979ء کے بلدیاتی الیکشن میں کونسلر منتخب ہوئے۔ مرحوم میاں شجاع الرحمن کے مقابلے میں میئر لاہور کے لئے امیدوار نامزد ہوئے تاہم کمشنر لاہور کی طرف سے نااہل ٹھہرے،بعد میں وہ قائد حزبِ اختلاف کا کردار نبھاتے رہے۔ڈاکٹر بنگش پیپلزپارٹی کے سرگرم رکن تھے وہ کئی عہدوں پر رہے اور پارٹی ٹکٹ پر ایم پی اے بھی منتخب ہوئے، مرحوم کی سیاسی اور سماجی خدمات کا یہ اثر تھا کہ نماز جنازہ کے وقت گول باغ گراؤنڈ بھر چکی تھی اور ہر طبقہ فکر کے حضرات اور اہل علاقہ بھاری تعداد میں شامل تھے۔ ضیاء اللہ بنگش کثیر العیال تھے اور ان پر یہ بھی کرم تھا کہ سب بچے اہل اور برسر روزگار ہیں۔

دُعا ہے اللہ ہر دو مرحومین کو جنت ا لفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔آمین