کالم کا عنوان پڑھ کے یہ مت سمجھیں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر ڈاکٹر برائے فروخت ہے۔ یہ تو ٹی وی ڈرامہ سیریل لکھنے والوں نے کردار تراشے ہیں، جس میں چند کروڑ یا چند ارب روپے کے لئے بہنیں بھائیوں کے اور بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے اور اس کام میں مدد وہ ڈاکٹر فراہم کر رہے ہیں جو مسیحا کہلاتے ہیں۔یہ ہے ہماری آج کل کے ڈراموں کی تھیم یا بنیاد ڈاکٹر برائے فروخت، یعنی دولت چاہئے تو ”ڈاکٹر کی خدمات“ حاصل کرو اور ”سب کچھ“ تمہارا ہو جائے گا تمہارے راستے کے کانٹے ڈاکٹر چن لے گا۔ایک مقبول ڈرامہ شیر کے نام سے چل رہا ہے۔ ڈرامے میں دانش تیمور ”شیر“ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک بڑے جاگیردار کے اعلیٰ تعلیم یافتہ، غیر معمولی سمجھدار، طاقتور صاحبزادے، مگر بدقسمتی سے شیر کے چچا اور دو چچا زاد بھائیوں کے علاوہ سوتیلی ماں بھی اسے سخت ناپسند کرتی ہے۔ چچا اور بھائیوں کی یہ ناپسندیدگی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب شیر کے والد اپنے کاروبار کی باگ دوڑ شیر کو سونپ دیتے ہیں۔ لہٰذا چچا اپنے بڑے بھائی اور بھتیجے کی موت کا بندوبست ایک ایسے وقت پر کرتا ہے جب بھتیجے کی منگنی کی رسم ادا ہو رہی ہوتی ہے۔ بھائی اور بھتیجا موت کی سڑک پر گاڑی دوڑا رہے ہوتے ہیں اور دو کنٹینر ان کی ”موت کا پروانہ“ لے کر ان کے آگے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ ادھر بڑے بھائی کو موت ملتی ہے اور ادھر چھوٹا بھائی منگنی کی تقریب میں دیوانہ وار ناچ رہا ہوتا ہے۔ چچا کا منصوبہ بھائی کی موت تک تو کامیاب رہتا ہے لیکن بھتیجا بچ جاتا ہے۔ البتہ اس کے سر پہ چوٹیں آتی ہیں۔ چچا ڈاکٹر کو 10 کروڑ کی خطیر رقم سے خرید لیتا ہے اور وہ ڈاکٹر جس کا کام جان بچانا ہے وہ قاتل چچا سے ہاتھ ملاتا ہے اور بھتیجے کی ڈرپ میں ایک ایسا ٹیکہ شامل کرتا ہے،جس کے بعد اُس کی دماغی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ پاگل خانے پہنچ جاتا ہے۔
ایک دوسرا ڈرامہ راجہ رانی کے نام سے چل رہا ہے۔ راجہ کا دماغ ایک ٹریفک حادثے میں متاثر ہو چکا ہے اور اس کا چچا زاد بھائی اور چچی اس سے جان چھڑا کر اس کے کاروبار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ ایک دن راجہ اپنے چچا زاد بھائی جنید کے ٹارچر سے تنگ آ کر گھر سے بھاگتا ہے اور اُس کی ملاقات رانی سے ہو جاتی ہے۔ غریب محنت کش رانی اُسے گھر میں پناہ دیتی ہے اور پھر جنید راجہ کو ٹھکانے لگانے کے لئے پولیس بھجواتا ہے رانی راجہ کو پولیس کے تشدد سے بچاتی ہے اور پھر راجہ کے والد آکر سارا کھیل ہی الٹ دیتے ہیں۔ راجہ کو رانی پسند آ جاتی ہے اور راجہ کے والد اپنے بیٹے کے ”پسندیدہ کھلونے“ کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔ رانی کی بدولت راجہ کی ذہنی کیفیت بہتر ہونا شروع ہوتی ہے۔ راجہ کی سائیکیٹرسٹ اِس بارے میں راجہ کے والد کو بتا دیتی ہے اور یہ دیکھ کر چچا زاد بھائی جنید پہلے اپنے امیر کبیر تایا کو تکیہ منہ پر رکھ کر مار دیتا ہے اور راجہ کے کاروبار پر مکمل کنٹرول کے لئے اسے پاگل خانے پہنچا دیتا ہے جہاں ایک ڈاکٹر کو خرید کر راجہ کے ساتھ بدترین ظلم کا آغاز ہوتا ہے اُسے مارا پیٹا جاتا ہے اور بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ہیں تاکہ اس کی ذہنی حالت مکمل تباہ ہو جائے۔
ایک اور ڈرامہ ڈائن کے نام سے ایک تیسرے ٹیلیویژن پر چل رہا ہے۔ اس ڈرامے میں جاگیردار گھرانے کی بے اولاد بہو اپنے دیور کے قاتل کی بیوی سے معاہدہ کرتی ہے کہ اگر اس کی بیٹی اس کے شوہر سے شادی کر کے ایک بچہ پیدا کرکے انہیں دے گی تو وہ اس کے قاتل شوہر کو رہا کرا دے گی، لیکن شادی کے بعد اس لڑکی کو کوئی عزت نہیں ملتی بلکہ اس کا نندوئی اس کی عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے اس کی نند قاتل کی بیٹی کہہ کر ظلم اور ٹارچر کرتی ہے، لیکن جب وہ لڑکی انہیں اولاد دے دیتی ہے تو اپنے باپ کی رہائی کے لئے کئے گئے ”اپنی ماں کے معاہدے“ کو بھول کر اپنی اولاد واپس حاصل کرنے پہنچتی ہے۔ جہاں نند شیشے کی بوتل توڑ کر اس کا چہرہ زخمی کردیتی ہے اور نندوئی اسی ٹوٹی بوتل سے اس کے پیٹ میں وار کرتا ہے۔ اس لڑائی میں لڑکی سے محبت کرنے والی ملازمہ جان سے جاتی ہے۔
لڑکی اور ملازمہ کی ”لاشوں“کو قبرستان میں پھینک کر گورکن کو تدفین کی ادائیگی کر دی جاتی ہے، مگر عین وقت پر لڑکی ہوش میں آ جاتی ہے اور گورکن اسے بیٹی کی قبر پہ آنے والے ڈاکٹر کے حوالے کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس بے اولاد گائناکالوجسٹ کا ”کیس“جانتے ہیں۔ وہ لڑکی کی ساری کہانی سمجھ جاتے ہیں اور پھر وہ گائناکالوجسٹ بطور پلاسٹک سرجن لڑکی کا بگڑا چہرہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور لڑکی کے چہرے پر لگے زخموں کو پلاسٹک سرجری کر کے ٹھیک کر دیتے ہیں۔ یعنی ایک ”گائناکالوجسٹ پلاسٹک سرجن“ بھی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو ایک بدمعاش نے جان سے مارا ہوتا ہے وہ غریب لڑکی کو اپنی بیٹی بنا لیتے ہیں، جس کے بعد صرف بال اور آنکھوں کا رنگ تبدیل کر کے اسے جاگیردار کے گھر میں بدلہ لینے کے لئے اپنے ہی بیٹے کی گورنس بنا کر بھیج دیتے ہیں۔ اپنی اس نئی بیٹی کو اپنی سوتن یعنی جاگیردار کی بیوی سے نجات پانے کے لئے دوائیاں فراہم کرتے ہیں۔ یعنی ڈاکٹر صاحب مردہ بیٹی اور زندہ لے پالک بیٹی کی محبت میں وہ کام کرتے ہیں جو پہلے دو ڈراموں میں ڈاکٹر صاحبان پیسے لیکر کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیا ڈاکٹر زندگی دینے والے ہوتے ہیں یا زندگی چھیننے والے ہوتے ہیں۔میرے تجربے میں صرف زندگی دینے والے ڈاکٹر ہیں۔نیورو سرجن بریگیڈیئر گل بادشاہ،آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر سید اویس،ہارٹ سرجن ڈاکٹر خالد حمید، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم ان سب کی بدولت زندگی سکون سے گزار رہا ہوں۔ زندگی میں ایک تلخ تجربہ 63 سال کی عمر میں ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن 38 سال کے بعد دوبارہ جنرل ہسپتال کے سرجن پروفیسر انور چودھری سے کرانے پر ہوا۔ انہوں نے میرے دو مہروں میں چار کیل ڈالے اور زندگی خراب کردی۔پروفیسر انور چودھری نے انفیکشن کا جواز یہ پیش کیا کہ آپ کے جسم نے کیلوں کو قبول نہیں کیا لہٰذا ان کو نکال دیتے ہیں۔ ان کے اس ”معمولی سے تجربے“ نے مجھے تین سال کے لئے بستر پر ڈال دیا. بہرحال ان کو دعا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں ”شفا“عطاء فرما دے۔ یہ اپنے اپنے تجربے ہیں لیکن ”ڈاکٹر برائے فروخت“ مجھے زندگی میں نہیں ملے۔ پھر ڈرامہ رائٹرز کو کیسے مل جاتے ہیں۔

