موضوعات تو بہت ہیں، لکھنے کے لئے انتخاب مشکل ہو رہا ہے تازہ ترین تو امریکہ، ایران چپقلش اور کشمکش ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے نشے میں سرشار ہیں، ان کو اپنا پرایا کوئی نظر نہیں آتا۔ ہروقت دھمکیاں اور آٹھ جنگیں بند کرانے کا کریڈٹ ان کا تکیہ کلام بن چکا۔ امریکی دستور کے مطابق وہاں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ نتائج سینیٹ اور کانگریس میں عددی حیثیت کو متاثر کرتے ہیں، اس لئے ٹرمپ صاحب نے ایک بڑا بحری بیڑہ خلیج فارس کی طرف بھیج دیا، روائتی دعویٰ کیا میں نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کر دی، اب اسے یورینیم کی افزودگی سے باز آنا اور ایٹمی پروگرام ترک کرنا ہوگا، ورنہ سبق سکھا دوں گا، دوسری طرف ایران کی حاکمیت اعلیٰ نے خوف زدہ ہونے کی بجائے مقابلے کا تاثر دیا اور خبردار کیا کہ اگر جارحیت کی گئی تو ایران جوابی کارروائی کرے گا۔ ایران کی سمندری اور فضائی حدود میں غلط ارادوں سے آنے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اسرائیل کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران نے اس سلسلے میں ہمسایوں کو بھی آگاہ کر دیا، ایران کے صدر اور دفترخارجہ متحرک ہیں۔ حال ہی میں ایرانی صدر نے سعودی عرب کے ولی عہد سے بھی بات کی ہے اور ولی عہد نے یقین دلایا کہ سعودی عرب کی فضائی حدود جارحیت کے لئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ پاکستان نے اس حوالے سے سفارتی محاذ سنبھالا اور ایران پر حملے کی کھلی مخالفت کی جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھرپور تشویش کا اظہار کیا اور امن پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلون مزاجی سے کچھ بعیدنہیں کہ ایران پر ہوائی حملہ کردے۔ جیسا کہ پہلے ایٹمی مراکز پر کر دیا گیا اور بی 52بمبار طیاروں سے ”ڈرٹی بم“ استعمال کئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے اپنی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا اور اطلاعات یہ ہیں کہ یہ تیاری نہ صرف اپنے بچاؤ کیلئے ہے بلکہ ایران کے خلاف امریکی چھتری تلے بغض نکالنے کی بھی نیت اور ارادہ ہے تاہم اس سب کے باوجود ایران مستحکم ہے۔ پاسداران انقلاب نے امریکی بحری بیٹرے پر حملہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ حالات پورے خطے ہی نہیں پوری دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہیں کہ جنگ چھڑ جانے سے اس کے پھیلنے کے امکانات بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔ امریکہ بہت پہلے سے اس پورے خطے میں فوجی اڈوں کے حوالے سے موجود ہے۔ عرب ممالک قطر، بحرین اور سعودی عرب تک میں اس کا فوجی ساز و سامان اور فوج موجود ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب ان ممالک کے تحفظ کے نام پر ہے جبکہ بنظر غائر دیکھا جائے تو خود ان ممالک نے اپنے سر پر امریکہ کو بٹھا رکھا ہے اور یہ سب ان کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جیسا کہ غزہ کے معاملے پر ہوا۔ او آئی سی بھی مطالبات سے آگے نہ بڑھ سکی اور اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھی حتیٰ کہ جنگ بندی کے معاہدہ کابھی احترام نہ کیا گیا اور فلسطینیوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ان تمام تر حالات میں سعودی عرب،ترکیے اور پاکستان بالواسطہ اور بلاواسطہ ہر طرح سے حالات کی رو میں ہیں اور حوصلہ مندی سے ایران کی حمایت اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتے چلے آ رہے ہیں، پاکستان امریکی صدر اور اب امریکہ سے بہتر ہوئے تعلقات کے باوجود امریکی جارحیت اور اسرائیلی ظلم کے خلاف واضح موقف اختیار کئے ہوئے ہے اس امر کے باوجود کہ بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ ہے۔ دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، پاک افواج مسلسل مقابلہ کرتی چلی آ رہی ہیں اگرچہ ان کو اندرونی رکاوٹیں بھی درپیش ہیں اور اب تو صورت یہ ہو چکی کہ دہشت گرد اور ان کے حواری خود ہمارے اندر موجود ہیں اور یہاں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ کے پی اور بلوچستان میں ان کے ٹھکانے اور مداخلت زیادہ ہے کہ بھاری مالی اور تربیتی امداد کے سہارے افغانستان سے مختلف محاذوں پر مداخلت ہوتی رہتی ہے۔ آئے روز خارجیوں کو مارا جاتا ہے لیکن یہ حضرات جسمانی طور پر ہمارے ملک خصوصاً شمالی علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے لئے ہی ”انٹیلی جنس بیسڈ“ کارروائی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں ہمارے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کردیا گیا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد اور تعاون سے باز رہے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان آج تک اپنے جائز موقف پر قائم اور واضح ہے ابھی پچھلے ہی روز سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ملکی موقف پر زورانداز میں دہرایا ہے۔
اب تک جو بھی عرض کیا یہ سب حالات سب کے سامنے ہیں تاہم عرض یہ کرنا ہے کہ یہی حالات لمحہ فکریہ بھی ہیں کہ ہماری حکومت اور ملکی سلامتی کی ضامن افواج کو جو مکمل حمائت حاصل ہونا چاہیے وہ نہیں ہے۔ ہم نے مسلسل قومی اتفاق رائے کی بات کی اور میں نے بھی بار بار نبی آخر الزمانؐ کے فرامین کا ذکر کیا اور استدعا کی ہے کہ پاکستان کے ایک ایٹمی ملک ہونے اور دنیا کی بہترین مسلح افواج کے ہوتے ہوئے بھی ملکی استحکام کی ضرورت ہے کہ کفار کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں رہا بلکہ الٹا حالات کو مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ کھٹے میٹھے تعلقات والے لوگ ہیں، لیکن گل پلازہ ان کے لئے محاذ آرائی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ہر دو جماعتیں حکومت کی اتحادی ہیں بلکہ متحدہ تو کابینہ میں بھی شامل ہے اور کابینہ کے فیصلوں کی پابند بھی ہے لیکن کراچی کے مسئلہ پر اس کے لئے کوئی قاعدہ اور کلیہ متعین نہیں ہے اسے ہر قیمت پر نہ صرف کراچی بلکہ حیدرآباد اور میرپور خاص بھی چاہیے کہ جو چاہے ہو جائے یہاں پیدا ہو کر جواں ہونے والے بھی ابھی تک مہاجر ہیں اور یہ لفظ لسانیت کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ان دنوں دونوں جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی عروج پر ہے۔ متحدہ نے نئے صوبوں کے مطالبے سے بڑھ کر اب کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں میں الفاظ کی گولہ باری بھی چوتھی عالمگیر جنگ نظر آتی ہے۔ ہر روز بیان بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، یہ سلسلہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے اس لئے وزیراعظم کی مداخلت لازم ہوگئی ہے کہ ان کی محاذ آرائی اب پورے نظام کو متاثر کررہی ہے۔ متحدہ والے لفظی گولہ باری میں بڑے ماہر ہیں اور اپنی مہارت استعمال بھی کررہے ہیں لیکن اس سے قومی وحدت متاثر ہو رہی ہے۔اس حوالے سے یہ تجویز بھی ہے کہ ایسی محاذ آرائی کی نشرواشاعت مکمل طو رپر بند کر دی جائے۔ یوں یہ سانپ ازخود مر جائے گا۔
ابتداء میں عرض کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت متوازن نہیں وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک فریق ہے ایسے میں ملک کے اندر مکمل یکجہتی کی ضرورت ہے اس لئے تمام سیاسی جماعتوں اور عناصر کو اپنے مفادات اور انا کو ترک کرکے ملکی استحکام میں حصہ لینا ہوگا۔

