امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ٹیرف کے معاملے پر کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت آیا ہے، جب وہ کینیڈا، میکسیکو اور چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف عائد کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرچکے ہیں۔
نئے ٹیرف اقدامات سے امریکا کے یہ تینوں بڑے تجارتی شراکت دار ممالک متاثر ہوں گے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات کو مستحکم کرنے کے لیے یہ قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈرز کے مطابق کینیڈا اور میکسیکو سے ہونے والی درآمدات پر 25 فی صد ٹیرف عائد کیے گئے، جن پر منگل سے عمل درآمد ہو گا جبکہ چین سے ہونے والی درآمدات پر 10 فی صد مزید ٹیرف عائد کیا گیا۔
ٹیرف سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیا یہ تکلیف کا باعث بنے گا؟ شاید ہاں یا شاید نہیں، لیکن ہم امریکا کو پھر عظیم بنائیں گے اور اس کے لیے یہ قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کے 2 بڑے تجارتی شراکت داروں میکسیکو اور کینیڈا نے فوری طور پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ چین نے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے اقدام کو عالمی تجارتی تنظیم( ڈبلیو ٹی او) میں چیلنج کرنے کے ساتھ دیگر جوابی اقدامات کرے گا۔

