ڈھاکا: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت

ڈھاکا(ایجنسیاں)بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو تین سنگین الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی۔ عدالت نے سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کو بغاوت کے دوران بڑے پیمانے پر قتل، شہریوں پر مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے اور مظالم روکنے میں غفلت کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا۔ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا جبکہ عدالت کے باہر اور اندر سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

شیخ حسینہ اگست 2024 سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود بنگلہ دیش واپس آنے سے انکار کیا تھا۔عدالت کے فیصلے پر ان کے بیٹے سجیب واجد نے کہا ہے کہ وہ اپیل تب ہی کریں گے جب ملک میں جمہوری حکومت قائم ہوگی۔خصوصی عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال کو بھی سزائے موت سنائے جانے کے بعد ڈھاکا میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اہم مقامات پر چیک پوائنٹس قائم ہیں اور ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

فیصلے سے قبل اور بعد میں شہر میں کشیدگی برقرار رہی جبکہ عدالت کے اندر سزائے موت کے اعلان پر تالیاں بھی بجائی گئیں۔شیخ حسینہ نے مقدمے کو ’’قانونی مذاق‘‘ قرار دیا تھا اور تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔