کتا بیچو گدھا بیچو۔۔ پاکستان سے باہر بیچو

گدھا حلال ہے یا حرام ہے کیا اس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث آج کل زوروں پر ہے۔ چلو گدھے کی بحث تو ہو گئی کہ یہ جگالی کرنے والا جانور ہے، لیکن جو لوگ پاکستانیوں کو کتے کا گوشت کھلاتے ہیں اس کا کیا جواز دیں گے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سنگجانی کے فارم ہاؤس سے گدھے کا ایک ہزار کلو گوشت، گدھوں کی سینکڑوں کھالیں اور 45 زندہ گدھے برآمد ہونے کے بعد کچھ حلقے گدھے کے گوشت کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بہت شرمناک ہے۔ یہ بھول گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھوڑے اور گدھے ذبح کئے جانے پر گدھے کا گوشت ضائع کرا دیا تھا البتہ گھوڑوں کا گوشت کھایا گیا تھا۔ پیارے نبیؐ نے گدھے کو کھانے سے منع فرما دیا تو جب میرے نبیؐ نے گدھا کھانے سے منع کر دیا تو آج کیسے یہ جانور حلال قرار پا سکتا ہے،مگر دولت کمانے کی ہوس نے انسان کو اندھا کر دیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی یہ لوگ جب کتوں اور گدھوں کو برآمد کر کے ”ڈالر کما سکتے“ ہیں تو عوام کو کتے اور گدھے کا گوشت کھلانے کی کیا ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور میں گدھے کا گوشت کھلائے جانے کا سکینڈل سامنے آیا تھا۔ اب اسلام آباد والے بھی اس ”نعمت“ سے محروم نہیں رہے۔ اسی واقع پر بس نہیں ہو گئی گزشتہ چند دِنوں میں خیبرپختونخوا میں مانسہرہ کے علاقہ کوزہ بانڈا سے ذبح شدہ گدھا قبضہ میں لیا گیا اور دو افراد گرفتار کیے گئے۔ پنجاب میں قصور کے علاقے کوٹلی رائے ابوبکر سے گدھے کا گوشت برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ تین فرار ہو گئے۔ اسلام آباد (سنگجانی) کا واقعہ سب سے بڑا ہے وہاں تو سینکڑوں کھالیں بھی ملی ہیں۔ پورے پنجاب سے گدھے اس فارم ہاؤس میں لائے جاتے تھے جہاں انہیں کاٹ کر کھالیں گوادر بھیجی جاتی تھیں تاکہ ان کو چین بھیجا جا سکے اور ”گوشت فروخت“ کر دیا جاتا تھا۔ اب یہ گوشت کون کون سے ہوٹل مالکان کباب، سٹیک اور بریانی بنا کر لوگوں کو کھلاتے تھے۔یہ پتہ چلانا پولیس کا کام ہے،لیکن معذرت اپنی پولیس سے ایسی کوئی اُمید نہیں کہ ان کا تو تفتیش کا واحد طریقہ ”15 انچ کا چھتر اور ملزم کی پشت“ ہے۔ اگر ملزم تشدد برداشت نہ کر سکا اور کچھ لوگوں کے نام سامنے آ گئے تو پھر ”اعلیٰ سطح پر مذاکرات“ کے بعد معاملات طے ہو جائیں گے۔ چین میں گدھے کی کھال اُبال کر جیلیٹن نکالی جاتی ہے اور پھر اس جیلیٹن سے ”جوانی برقرار رکھنے والی“ دوائیاں بنتی ہیں۔ ویسے چین کے صوبہ ہیبی میں ”گدھا برگر“ بھی کھایا جاتا ہے اور یہ وہاں کے لوگوں کی پسندیدہ غذا ہے۔ پاکستان میں خوش قسمتی سے گدھوں کی تعداد بہت زیادہ ہے معذرت”چار پیروں والوں کی بات کر رہا ہوں سیدھا چلنے والے گدھوں“ کی نہیں۔ پاکستان کی آبادی 60لاکھ ہو چکی ہے سنا ہے اب ”گدھا فارم“ بھی بن رہے ہیں۔ پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے ایک اجلاس میں وزارت کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ پاکستان چین کو گدھے کا گوشت اور کھالیں برآمد کرے گا۔ معاہدے کے تحت پاکستان دو لاکھ 16 ہزار گدھوں کی کھالیں اور گوشت چین کو برآمد کرے گا۔اِس مقصد کے لئے گوادر میں ایک مذبح خانہ بھی تعمیر ہو رہا ہے۔اِس کا مطلب ہے کہ گدھے کا گوشت اور کھالیں قانونی طور پر برآمد کر سکتے ہیں۔ بس ایک برآمدی لائسنس حاصل کریں۔ ایک مذبح (سلاٹر ہاؤس) قائم کریں۔ گدھے ذبح کریں، گوشت کو محفوظ کریں، کھالوں کو بھی محفوظ کر کے چین بھیج دیں۔اس کاروبار میں ترقی کے لئے گدھوں کے فارم ہاؤس بنائیں۔ گدھوں کا فارم ہاؤس بڑی آسانی سے بن جائے گا۔ پاکستان میں گدھوں کی آبادی تو خاصی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب لاہور اسلام آباد موٹروے تعمیر ہو رہی تھی اور جنوبی کورین باشندے اس کی تعمیر کے لئے پاکستان آئے ہوئے تھے تو لاہور سے اسلام آباد موٹروے کے دونوں طرف کے علاقوں میں لوگوں کو کتے بیچنے کا موقع ملا اور انہوں نے کتے پکڑ پکڑ کے کورینز کو کھلا دیئے اور خوب پیسے کمائے۔ب تو حیرانی ہوتی ہے کہ ہماری عدالتیں کتے مارنے پر پابندی لگا رہی ہیں کہ کتا نہیں مارنا۔ ٹھیک ہم کتے نہیں مارتے آپ ہمیں کتے برآمد کرنے کی اجازت دے دیں۔ کتے پکڑو اور بحری جہاز پر لاد کر مشرق بعید کے ملکوں کو بھیجے جاؤ۔ پاکستان سے کتوں کی برآمد شروع کر دی جائے ہمیں ان سے نجات بھی مل جائے گی ہمارے بچے بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ جو تھوڑے بہت کتے رہ جائیں گے ان کو عدالتی احکامات کے مطابق ٹیکے لگا کر ریبیز جیسی خوفناک بیماری سے بچنے کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ جج صاحبان نے کتوں کو مارنے سے تو روک دیا ہے چنانچہ آج سڑکوں پارکوں میں کتے انسانوں کو کاٹ رہے ہیں۔ بچے شدید زخمی ہو رہے ہیں، مر رہے ہیں، کتے کاٹ کاٹ کر ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں۔ محترم قاضی حضرات کی نظر اِس طرف کیوں نہیں جاتی۔معاشرے کے سب سے پڑھے لکھے افراد میں ہمارے قاضی صاحبان آتے ہیں جو مسلسل پڑھتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں جج ساری عمر بڑھتا رہتا ہے علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے، مگر نجانے انہیں کیوں نہیں پتہ چلا کہ پاکستان کی سڑکوں پر اتنا ”خطیر زرِ مبادلہ بھاگا پھر“ رہا ہے اور ہر سال اپنی تعداد اور بڑھا رہا ہے۔ تو کیوں نہ انہیں پکڑ کر پاکستان سے باہر برآمد کر کے اپنے قرضے اُتارے جائیں۔گدھوں کو بھی اگر پاکستان سے باہر بیچنا ہے تو اِس کاروبار کو قانونی تحفظ دیا جائے۔ اِس کے ساتھ ہی ان دونوں جانوروں کو پاکستان کے عوام کو کھلانے والوں کے لئے سخت ترین سزا مقرر کی جائے۔ اگر سور کا گوشت کھانا حرام ہے تو کتا اور گدھا حلال کیسے ہو گئے۔ گدھا اور کتا مسلمانوں پر حرام ہیں تو جو انہیں کھاتے ہیں انہیں فراہم کر دیا جائے اور اپنے قرضے اتارے جائیں، بلکہ حکومت پاکستان خود اپنے فارم بنا کر گدھے چین کو برآمد کرے تاکہ اپنے قرضوں میں کمی کی جا سکے اگر ہر سال کروڑوں ڈالر کی گدھے کی کھالیں اور گوشت چین بھیجا جائے تو وہ کروڑوں ڈالر اس تین ارب ڈالر کے قرضہ کے اندر کمی کرتے جائیں گے جو ہم نے ان سے لیا ہوا ہے۔ اُمید ہے کہ اس پر غور کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں